حاصل شدہ میراث کی تقسیم

آدمی اپنے والدین سے پائی ہوئی جائداد کو اپنے بچوں میں کیسے تقسیم کرے؟

پڑھیے۔۔۔

میراث کا ایک قضیہ

ایک صاحب نے اپنے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس اپنی وفات کے بعد کیش کرانے کی اتھارٹی اپنے ایک قانونی وارث کو دے دی، جب ان کی وفات ہوئی تو ان صاحب نے ایک عرصہ تک وہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس کیش نہیں کرائے۔ پھر عدالت نے ان سرٹیفکیٹس کو باقی جائداد میں شامل کرتے ہوئے ، انھیں کیش کرانے کی اتھارٹی سب ورثا کو دے دی۔
سوال یہ ہے کہ ان سرٹیفکیٹس کی رقم کا اصل حق دار کون ہے، کیا وہی شخص جسے مرحوم نے خود نامزد کیا تھا اور اسے کیش کرانے کی اتھارٹی دی تھی یا پھر سبھی ورثا جنھیں اب عدالت نے حق دار قرار دے دیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟

ہمارے معاشرے میں عام طور پر بیٹیوں کو ماں باپ کی وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان کے بھائی چاہتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی ساری میراث پر وہی قبضہ کر لیں، اس کے لیے وہ درج ذیل دو دلائل خاص طور پر پیش کرتے ہیں:


پہلا یہ کہ بہنوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنا حصہ اپنے بھائیوں کے لیے چھوڑ دیں، کیا انھیں اپنے بھائیوں کا خیال نہیں ہے؟
دوسر ایہ کہ لڑکیوں کی شادیوں پر چونکہ ان کے والدین اور بھائیوں نے اخراجات بھی کیے ہیں اور انھیں جہیز بھی دیا ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے وہ اپنا حصہ لے چکی ہیں اور اب ان کا میراث کا مطالبہ درست نہیں ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا بھائیوں کا یہ رویہ درست ہے اور کیا جہیز کو میراث کے حصے کا بدل کہا جا سکتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

تقسیمِ میراث سے متعلق ایک سوال

پچھلے دنوں میرے ایک عزیز کی وفات ہوئی ہے،جن کے پسماندگان میں والدین،ایک بیوی،ایک بیٹا،ایک بیٹی،ایک بہن اور ایک بھائی ہے۔ متوفٰی کے اہل خانہ اُن ترکے کی شرعی تقسیم کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ برائے کرم قرآن مجید کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔