Search

شیطان کے سینگوں کے درمیان سورج کا طلوع ہونا؟

سوال:

جواب:

آپ نے جس روایت کے بارے میں پوچھا ہے وہ درج ذیل ہے

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلاَةَ حَتَّى تَغِيبَ ‏"‏‏.‏ ‏"‏ وَلاَ تَحَيَّنُوا بِصَلاَتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلاَ غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَىْ شَيْطَانٍ ‏"‏‏.‏ أَوِ الشَّيْطَانِ‏.‏ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَ هِشَامٌ‏.‏

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکل آئے تو نماز نہ پڑھو جب تک وہ پوری طرح ظاہر نہ ہو جائے اور جب غروب ہونے لگے تب بھی اس وقت تک کے لیے نماز چھوڑ دو جب تک بالکل غروب نہ ہو جائے ۔ اور نماز سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت "نہ پڑھو ، کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ عبدہ نے کہا میں نہیں جانتا ہشام نے شیطان کہا یا الشیطان۔

شیطان کے سینگوں سے شیطان کے وہ گروہ مراد ہیں جن کے درمیان جب سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے تو وہ اس کی پرستش کرتے ہیں جس وجہ سے ان اوقات میں نماز ادا کرنے سے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے منع کیا تاکہ الله کے پرستار ان سے الگ ہوں-

و السلام

Mushafiq Sultan