Search

اچھائی اور برائی کا خدا کی طرف سے ہونا

سوال:

جواب:

قرآنِ کریم کی جس آیت کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا وہ سورۂ نساء کی آیت نمبر 79ہے ۔ تاہم اس آیت کا مفہوم سمجھنے لیے ضروری ہے کہ اس کو اس سیاق و سباق اور سلسلۂ کلام میں رکھ کر سمجھا جائے جو پیچھے سے چلا آ رہا ہے ۔اس سلسلۂ کلام میں مدینے کے وہ منافقین زیر بحث ہیں جو پیش آنے والی ہر مصیبت کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالتے تھے ۔ البتہ اپنے دعویٰ ایمان کو ثابت کرنے کے لیے یہ ضرور کہتے تھے کہ بھلائیاں اللہ کی طرف ہی سے آتی ہیں۔ گویا انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو الگ الگ کر دیا تھا۔ چنانچہ ان آیات سے قبل آنے والی آیت میں اللہ تعالیٰ منافقین کے اسی طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور پھر اگلی آیت میں یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ شر کے ظہور کی اصل ذمہ داری انسانوں ہی پر عائدہوتی ہے ۔ ہم ذیل میں دونوں آیات کا ترجمہ اور ساتھ میں ان آیات کی وضاحت میں مولانا اصلاحی کی تدبرِ قرآن سے متعلقہ اقتباسات نقل کر رہے ہیں جن سے آپ پر اصل بات ان شاء اللہ پوری طرح واضح ہوجائے گی:

’’اوراگران کوکوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے توکہتے ہیں کہ یہ خداکی طرف سے ہے اوراگرکوئی گزند پہنچ جائے تو کہتے ہیں یہ تمھارے سبب سے ہے ۔کہہ دوان میں سے ہرایک اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں کوکیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کانام ہی نہیں لیتے ۔ ‘‘ (نساء4: 78)

اس آیت کی شرح میں امین احسن اصلاحی صاحب لکھتے ہیں :

’’پھرمنافقین کی ایک اورحماقت کی طرف بھی اشارہ فرمایاجس کوان کی اس بزدلی کی پرورش میں بڑا دخل تھاوہ یہ کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے دوران میں جونرم گرم حالات پیش آ رہے تھے وہ ان سب کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے تھے بلکہ کامیابیوں کوتو خداکی طرف سمجھتے ، لیکن کوئی مشکل یا کوئی آزمائش پیش آ جائے تواسے پیغمبرکی بے تدبیری پرمحمول کرتے کہ یہ مدبرلیڈرنہیں ہیں اس وجہ سے غلط اندازے اور غلط فیصلے کرتے ہیں جس کے نتائج غلط نکلتے ہیں (چنانچہ سورۂ آل عمران میں یہ بات گزرچکی ہے کہ منافقین نے اُحدکی شکست کی ساری ذمہ داری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرڈالنے کی کوشش کی کہ انہی کی بے تدبیری سے یہ شکست پیش آئی) اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ لوگ نہ تویہ مانتے تھے کہ کائنات میں صرف خداہی کی مشیت کارفرما ہے اورنہ یہ مانتے تھے کہ رسول کاہرکام خداکے حکم کے تحت ہوتا ہے ۔بظاہرتوآپ کی رسالت کا اقرارکرتے لیکن باطن میں ان کے یہی خیال چھپا ہوا تھاکہ آپ سارے کام اپنی رائے اورتدبیرسے کرتے ہیں ۔ان کے اس واہمے کی تردیدکے لیے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کوہدایت فرمائی گئی کہ ان پرواضح فرمادیجیے کہ کامیابی ہویاناکامی، دکھ ہویا سکھ، ان میں سے کوئی چیز بھی میری طرف سے نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے اس لیے بھی کہ میں کوئی کام خدا کی حکم کے بغیر نہیں کرتا اوراس لیے بھی کہ مصرف حقیقی اس کائنات کا اللہ ’وحدہ لاشریک ‘ہی ہے ۔اس کی مشیت کے بغیرنہ اس دنیامیں کسی کو دکھ پہنچ سکتا ہے نہ سکھ۔لیکن ان لوگوں کاحال تویہ ہے کہ کسی بات کوسمجھنے کے پاس ہی نہیں پھٹکتے ۔ ‘‘ ، (تدبرقرآن: 344/2)

’’تمھیں جوسکھ بھی پہنچتا ہے خداکی طرف سے پہنچتا ہے اورجودکھ پہنچتا ہے وہ تمھارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے ۔‘‘ (نساء4: 79)

اس آیت کی وضاحت مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اس طرح کرتے ہیں:

’’یہ آیتیں اوپروالی آیت ہی کے بعض اجمالات کو واضح کر رہی ہیں ۔پہلے ان لوگوں کو، جوکامیابیوں کواللہ تعالیٰ کی طرف اور ناکامیوں کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے ، مخاطب کر کے فرمایا کہ اصل حقیقت تویہی ہے کہ خیروشر ہر چیزکاظہورخداہی کی مشیت سے ہوتا ہے ۔اس کے حکم و اذن کے بغیرکوئی چیزبھی ظہورمیں نہیں آ سکتی۔لیکن خیراور شرمیں یہ فرق ہے کہ خیر خدا کی رحمت کے اقتضا سے ظہورمیں آتا ہے اورشرانسان کے اپنے اعمال پرمترتب ہوتا ہے ۔اس پہلو سے شرکاتعلق انسان کے اپنے نفس سے ہے ۔

یہ حقیقت یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ خیرمطلق ہے ۔اس نے یہ دنیا اپنی رحمت کے لیے بنائی ہے ۔اس وجہ سے اس کی طرف کسی شرکی نسبت اس کی پاکیزہ صفات کے منافی ہے ۔شرجتناکچھ بھی ظہورمیں آتا ہے وہ صرف انسان کے لیے اپنے اختیارکے سوئِ استعمال سے ظہورمیں آتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص دائرے کے اندرآزادی بخشی ہے ۔یہ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑ ی نعمت ہے ۔اسی پرانسان کے تمام شرف کی بنیادہے ۔اسی کی وجہ سے انسان آخرت میں جزاوسزاکا مستحق ٹھہرے گا۔اگریہ آزادی انسان کوحاصل نہ ہوتی توحیوان اورانسان کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔لیکن اس آزادی کے متعلق یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ یہ غیرمحدوداورغیرمقیدنہیں ہے بلکہ، جیساکہ ہم نے اشارہ کیا، ایک خاص دائرے کے اندر محدودہے ۔پھراس دائرے کے اندربھی خداکی مشیت اوراس کی حکمت کے تحت ہے۔ خداکے اذن اورمشیت کے بغیرانسان اپنے کسی ارادے کوپورانہیں کرسکتا۔نیک ارادے بھی اسی کی توفیق بخشی سے پورے ہوتے ہیں اوربرے ارادے بھی اسی کے مہلت دینے سے بروئے کارآتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کے کسی برے ارادے کوبروئے کارآنے دیتا ہے تواس پہلوسے وہ خداکی طرف منسوب ہوتا ہے کہ اس کابروئے کارآناخداہی کے اذن ومشیت سے ہوالیکن دوسرے پہلوسے وہ انسان کافعل ہے کیونکہ اس کا ارادہ انسان نے خودکیا۔‘‘ ، (تدبرقرآن: 2/344۔345)

Rehan Ahmed Yusufi