Search

اچھے اعمال کا برا صلہ

سوال:

جواب:

آپ کے سوال میں یہ غلط فہمی پوشیدہ ہے کہ آپ کو ہونے والا ہارٹ اٹیک آپ کی ایک نیکی کا بدلہ تھا۔ ہم آپ سے یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے بچے آپ کی ہدایت کے مطابق کوئی اچھا کام کریں تو کیا آپ انھیں سزا دیں گے؟ جب آپ ایک عام انسان ہوکر یہ نہیں کرسکتے تو پروردگار عالم جو سب سے بڑ ھ کر رحم کرنے والا ہے ، وہ اپنے بندوں کی نیکی کا بدلہ اس طرح کیوں دے گا کہ والدین کی خدمت کا بدلہ ہارٹ اٹیک کی شکل میں دے؟ اس لیے آپ پورا اطمینان رکھیں کہ آپ کو کوئی سزا نہیں ملی اورآپ کو آپ کی نیکی کا بہترین بدلہ مل کر رہے گا۔ رہا یہ سوال کہ آپ کو ہارٹ اٹیک کیوں ہوا تو ظاہر ہے کہ بحیثیت ایک ڈاکٹر اس کی وجوہات کو آپ ہم سے زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔

آپ کے سوال میں ایک غلط فہمی اور مضمر ہے کہ جب کبھی ایک انسان کوئی نیکی کا کام کرے یا اس کے حق میں کوئی دعا کی جائے تو لازماً اس کے معاملات بہترہونے چاہییں۔ اس کی صحت اور مال کو کئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ بات بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمایش کے اصول پر بنائی ہے ، سزا اور جزا کے اصول پر نہیں۔ یہاں اگر ہرنیکی پر فوری جزا اورہر بدی پر سزا ملنے لگے تو بتائیے پھر کون اللہ کا انکار کرے گا اور کون اس کی نافرمانی کرے گا؟ اس دنیا میں صالحین پر بھی تکالیف آتی ہیں اور بدکاروں کو بارہا نعمتیں مل جاتی ہیں۔ یہ آزمایش کے اُس قانون کے تحت ہوتا ہے جس میں انسان کو اچھے برے حالات میں بن دیکھے رب کو ماننا اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔ جو لوگ یہ کر لیتے ہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ کل قیامت کے دن انھیں دیا جائے گا۔

رہی یہ دنیا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ صالحین کو تنہا اور بے آسرا نہیں چھوڑ تے۔ اس دنیا کی سب سے بڑ ی نعمت یعنی دل کا اطمینان انھیں ہمیشہ حاصل رہتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ان کی نیکیاں خارج کی دنیا میں بھی ان کے لیے بھلائی کا سبب بن جاتی ہیں ۔ مثلاً یہی والدین کی خدمت وہ نیکی ہے جس کا بدلہ انسان اکثر اس دنیا میں نیک اولاد کی شکل میں پا لیتا ہے۔ آپ بھی یقین رکھیے کہ اگر آپ والدین کے حقوق پورے کر رہے ہیں اور اولاد کی اچھی تربیت کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ آپ کی اولاد بڑ ھاپے میں آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گی۔

ہم پر مشکلات کیوں آتی ہیں؟ یہ ایک اہم اور تفصیلی موضوع ہے جس کا احاطہ اس مختصر جواب میں کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع پر ہمارے ادارے کے ایک ا سکالر جناب ساجد حمید نے اسی نام سے ایک تفصیلی کتاب تصنیف کی ہے۔ موقع ہو تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ امید ہے کہ یہ کتاب آپ کے کنفیوژن کو دور کرنے کا سبب بن جائے گی۔

Rehan Ahmed Yusufi