Search

علاماتِ قیامت

سوال:

جواب:

آپ نے جن امور کے بارے میں دریافت فرمایا ہے ، استاذ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان کے باب ایمانیات میں روزِ جزا پر ایمان کے ضمن میں علاماتِ قیامت کے زیرِ عنوان ان پر بحث کی ہے ۔ ہم ذیل میں ان کی کتاب سے آپ کے سوالات سے متعلقہ مباحث نقل کر رہے ہیں :

یاجوج ماجوج

یاجوج ماجوج سے متعلق قرآنٍِ کریم کا ایک بیان نقل کرتے ہوئے وہ کتاب کے صفحہ 175-176 پر لکھتے ہیں :

’’یہاں تک کہ وہ وقت آجائے ، جب یاجوج وماجوج کھول دیے جائیں اوروہ ہربلندی سے پل پڑ یں ، اور قیامت کاشدنی وعدہ قریب آپہنچے تو ناگہاں دیکھیں کہ ان منکروں کی نگاہیں ٹنگی رہ گئی ہیں ۔اس وقت کہیں گے :ہم اس سے غفلت میں پڑ ے رہے ، بلکہ ہم نے تواپنی جانوں پرظلم ڈھایا تھا۔ ‘‘

(انبیاء21: 96۔97)

یہ دونوں نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولادمیں سے ہیں جوایشیاکے شمالی علاقوں میں آبادہوئی۔پھرانھی کے بعض قبائل یورپ پہنچے اوراس کے بعدامریکہ اورآسٹریلیاکوآبادکیا۔صحیفۂ حزقی ایل میں ان کاتعارف روس، ما سکواور بالسک کے فرماں رواکی حیثیت سے کرایا گیا ہے ۔حزقی ایل فرماتے ہیں :

’’اورخداوندکاکلام مجھ پرنازل ہواکہ اے آدم زاد، جوج کی طرف جوماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش اورمسک اورتوبل کا فرماں روا ہے متوجہ ہواوراس کے خلاف نبوت کر۔‘‘ (حزقی ایل38: 1۔2)

’’پس اے آدم زادتوجوج کے خلاف نبوت کراورکہہ:خداوندخدایوں فرماتا ہے :دیکھ اے جوج، روش، مسک اورتوبل کے فرماں روا، میں تیرامخالف ہوں اورمیں تجھے پھرادوں گا اورتجھے لیے پھروں گا اورشمال کی دوراطراف سے چڑ ھالاؤں گا۔‘‘ (حزقی ایل39: 1۔2)

یوحناعارف کے مکاشفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خروج کی ابتدانبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ایک ہزارسال بعد کسی وقت ہو گی ۔ اس زمانے میں یہ زمین کوچاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں گے ۔ان کافسادجب انتہا کوپہنچے گا تو ایک آگ آسمان سے اترے گی اورقیامت کازلزلہ برپا ہوجائے گا:

’’اورجب ہزاربرس پورے ہو چکیں گے توشیطان قیدسے چھوڑ دیاجائے گا اوران قوموں کوجوزمین کی چاروں طرف ہوں گی، یعنی جوج وماجوج کوگمراہ کر کے لڑ ائی کے لیے جمع کرنے کونکلے گا۔ان کا شمار سمندر کی ریت کے برابرہو گا، اور وہ تمام زمین پرپھیل جائیں گی اورمقدسوں کی لشکرگاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیرلیں گی اورآسمان پرسے آگ نازل ہوکرانھیں کھاجائے گی۔‘‘(مکاشفہ20: 7۔9)

دجال

وہ کتاب کے صفحہ 177پر لکھتے ہیں :

’’یہ بڑ ے دغاباز، فریبی اورمکارکے معنی میں اسم صفت ہے ۔اس کاذکر’المسیح الدجال‘کے نام سے بھی ہوا ہے ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت سے پہلے کوئی شخص مسیح ہونے کاجھوٹادعویٰ کرے گا اور مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے اندرسیدنامسیح علیہ السلام کی آمدکے تصورسے فائدہ اٹھا کراپنے بعض کمالات سے لوگوں کوفریب دے گا۔بعض روایتوں میں ہے کہ یہ ایک آنکھ سے اندھا ہو گا اور ایمان والوں کے لیے اس کادجل اس قدرواضح ہو گاکہ اس کی پیشانی پرگویا کفرلکھا ہوادیکھیں گے ۔‘‘

آمدِ مہدی و مسیح

مہدی اور مسیح کی آمد کے متعلق ان کا نقطۂ نظر یہ ہے :

"ان کے علاوہ ظہورِمہدی اورمسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کوبھی قیامت کی علامات میں شمار کیا جاتا ہے ۔ہم نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہورِمہدی کی روایتیں محدثانہ تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ان میں کچھ ضعیف اورکچھ موضوع ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں جو سند کے لحاظ سے قابلِ قبول ہیں ، ایک فیاض خلیفہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے ، لیکن دقتِ نظرسے غور کیا جائے توصاف واضح ہوجاتا ہے کہ اس کامصداق سیدناعمربن عبدالعزیز تھے جو خیر القرون کے آخرمیں خلیفہ بنے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ان کے حق میں حرف بہ حرف پوری ہو چکی ہے۔ اس کے لیے کسی مہدی موعودکے انتظارکی ضرورت نہیں ہے۔ نزول مسیح کی روایتوں کواگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے ، لیکن قرآنِ مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محلِ نظرہیں ۔

اولاً، اس لیے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآن مجیدمیں کئی پہلوؤں سے زیربحث آئی ہے ۔ان کی دعوت اورشخصیت پرقرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے ۔روزِقیامت کی ہلچل بھی قرآن کاخاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدرپیغمبرکے زندہ آسمان سے نازل ہوجانے کاواقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔لیکن موقعِ بیان کے باوجوداس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکورنہیں ہے۔ علم وعقل اس خاموشی پرمطمئن ہو سکتے ہیں ؟اسے باورکرناآسان نہیں ہے ۔

ثانیاً، اس لیے کہ سورۂ مائدہ میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے جو قیامت کے دن ہو گا۔اس میں اللہ تعالیٰ ان سے نصاریٰ کی اصل گمراہی کے بارے پوچھیں گے کہ کیاتم نے یہ تعلیم انھیں دی تھیں کہ مجھ کو اورمیری ماں کوخداکے سوامعبودبناؤ۔اس کے جواب میں وہ دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ میں نے توان سے وہی بات کہی جس کاآپ نے حکم دیا تھا اورجب تک میں ان کے اندرموجودرہا، اس وقت تک دیکھتا رہاکہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو میں نہیں جانتاکہ انھوں نے کیابنایا اورکیابگاڑ ا ہے ۔اس کے بعدتوآپ ہی ان کے نگران رہے ہیں ۔اس میں دیکھ لیجیے ، مسیح علیہ السلام اگرایک مرتبہ پھردنیامیں آ چکے ہیں تویہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے ۔ اس کے بعدتوانھیں کہناچاہیے کہ میں ان کی گمراہی کواچھی طرح جانتا ہواورابھی کچھ دیرپہلے انھیں اس پرمتنبہ کر کے آیا ہوں ۔فرمایا ہے :

’’میں نے توان سے وہی بات کہی جس کاتونے مجھے حکم دیا تھاکہ اللہ کی بندگی کروجومیرابھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی، اورمیں ان پرگواہ رہا، جب تک میں ان کے اندرموجودرہا، پھرجب تونے مجھے اٹھالیاتوان پر تو ہی نگران رہا ہے اورتوہر چیزپرگواہ ہے ۔‘‘ (مائدہ5: 117)

ثالثاً، اس لیے کہ سورۂ آلِ عمران کی ایک آیت میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے ۔ یہ موقع تھاکہ قیامت تک کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بیان کر رہے تھے جوان کے اوران کے پیرو وں کے ساتھ ہونے والی ہیں تویہ بھی بیان کر دیتے کہ قیامت سے پہلے میں ایک مرتبہ پھرتجھے دنیا میں بھیجنے والا ہوں ۔مگراللہ نے ایسانہیں کیا۔ سیدنامسیح کوآنا ہے تویہ خاموشی کیوں ہے ؟اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔آیت یہ ہے :

’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں وفات دوں گا اوراپنی طرف اٹھالوں گا اور(تیرے )ان منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کوقیامت کے دن تک ان منکروں پرغالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کوبالآخرمیرے پاس آنا ہے ۔سواس وقت میں تمھارے درمیان ان چیزوں کافیصلہ کروں گاجن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘ (3: 55) " [میزان ، ص 177۔179]

Rehan Ahmed Yusufi