Search

اللہ سے دوستی کی شرط

سوال:

جواب:

آپ کو اپنے سوال کے جواب کے لیے دس سال انتظارکرنے کی ضرورت نہیں ، جواب حاضرہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پربے حدمہربان ہے۔ جولوگ ان پرایمان لاتے ہیں وہ انہیں دوست رکھتا ہے۔ آپ کا اللہ تعالیٰ پرپختہ ایمان ہے اور آپ کا اس سے دوستی کا جذبہ بھی بے حد قابل تحسین ہے ۔تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام یعنی قرآن مجیدمیں یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے محبت اوردوستی کی شرائط کیا ہیں۔ ارشادباری تعالیٰ ہے :

’’سن لوکہ اللہ کے دوستوں کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوایما ن لائے اورڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے ، دنیاکی زندگی میں بھی اورآخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی بڑ ی کامیابی ہے۔ ‘‘ (یونس10: 62۔64)

’’اے بنی کہہ دو:اگرتم اللہ کودوست رکھتے ہوتومیری پیروی کرو، اللہ تم کودوست رکھے گا اورتمھارے گنا ہوں کوبخشے گا اوراللہ بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (آل عمران3: 31)

ان آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دوستی اورایمان کوشرف قبولیت بخشتا ہے جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے اوراس کاتقویٰ اختیارکرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تعلق کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیجیے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہرشخص کی بات سنتا اورہرشخص سے پیارکرتا ہے ، لیکن بندوں کابھی فرض ہے کہ اس کی بات سنیں اورجس طرح اس نے بتایا ہے ، اسی طرح اس سے محبت کریں۔ نماز خدا کی محبت کے اظہارکاسب سے بڑ اذریعہ ہے۔ جوشخص یہ اظہارنہیں کرتا اور محبت کادعویٰ کرتا ہے وہ اپنے آپ کودھوکہ دیتا ہے۔ اس لیے آپ کچھ اور نہیں تو کم ازکم نمازاوردیگربنیادی عبادات کاتوضرور اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنافضل وکرم فرمائے۔ آمین

Rehan Ahmed Yusufi