Search

عقیدۂ آخرت کی عقلی و منطقی توجیہ

سوال:

جواب:

اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ہماری اس زندگی میں کئی خلا موجود ہیں ۔ ہماری یہ زندگی بڑ ی عجیب ہے۔ اس زندگی میں کسی کو مکمل اطمینان (Absolute Satisfaction) حاصل نہیں ۔ افریقہ کے کسی قحط زدہ ملک کے کسی غریب سے غریب شخص سے لے کر دنیا کے متمول ترین شخص تک کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے زندگی میں کبھی کوئی تکلیف پیش نہیں آئی اور اس کی ہر خواہش پوری ہوئی ہے ۔ یہاں وسائل محدود اور خواہشات لامحدود ہیں ۔ یہاں سب سے بڑ ی تکلیف موت ہے جو انسان سے اس کے تمام وسائل کو چھین لیتی ہے۔ موت کے وقت غریب و امیر کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہر انسان ایک ہی مقام پر جا کھڑ ا ہوتا ہے ۔ سب سے بڑ ا مسئلہ اس زندگی میں انصاف کا کامل صورت میں موجود نہ ہونا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نالائق افراد بعض اوقات اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ کئی قابل اور ذہین ترین افراد محض جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں ۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ بڑ ے بڑ ے مجرم بسا اوقات چھوڑ دیے جاتے ہیں اور بے گناہ مارے جاتے ہیں ۔ کسی طور سے بھی یہ زندگی کوئی آئیڈیل نہیں ہے ۔

ایک آئیڈیل زندگی کی خواہش ہر انسان کے لاشعور میں موجود ہے ۔ ایک ایسی زندگی جہاں کوئی تکلیف نہ ہو حتی کہ موت کا خوف بھی زندگی کی آسایشوں سے محروم کرنے کے لیے موجود نہ ہو۔ ارسطو سے لے کر کارل مارکس تک بڑے بڑے فلسفیوں نے ایسے Utopiaتخلیق کیے ہیں لیکن ان کے آئیڈیل شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ اس زندگی کے مسائل کو اگر مختصراً بیان کیا جائے تو یہ دو چیزوں پر مبنی ہے: ایک ماضی کے پچھتاوے اور دوسرے مستقبل کے خوف۔

انسان کی آئیڈیل زندگی کی یہ خواہش تقاضا کرتی ہے کہ ایسی زندگی ہونی چاہیے لیکن کیا ایسی زندگی واقعۃ ً موجود ہے ، یہ انسان نہیں جان سکتا۔ اس کا جواب تو اس کا خالق ہی دے سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے بہت تفصیل سے بیان کر دیا ہے کہ ایسی ابدی زندگی موجود ہے اور وہ جنت کی زندگی ہے لیکن اس میں داخلہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی دنیا کی زندگی اللہ کا بندہ بن کر گزاری ہو گی۔ یہی آخرت کا اسلامی عقیدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کو محض اپنی کتابوں میں بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ اسی آخرت اور جزا سزا کے تصور کو عملی طور پر دنیا میں بطور نمونہ (Sample)برپا کر کے بھی دکھا دیا ہے ۔ اس مقصد کے لیے اس نے چند اقوام کا انتخاب کیا اور انہیں اپنے رسولوں کے ذریعے خبردار کیا کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزارو ورنہ تم پر اسی دنیا میں اس کا عذاب آئے گا۔ جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی بات مان لی، ان کو اللہ تعالیٰ نے اسی دنیامیں سرفرازی عطا کی اور انہیں اس دنیا میں سپر پاور کا درجہ عطا کیا۔ ان اقوام میں سیدنا موسیٰ، سلیمان اور عیسیٰ علیہم الصلوۃ السلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار شامل ہیں ۔ اس کے برعکس جن اقوام نے انکار کی روش اختیار کی، ان کو اسی دنیا میں سزا دی گئی۔ ان کی مثال سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب علیہم الصلوۃ السلام کی اقوام ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تصور کو بیان کرنے کے لیے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو آخرت کے تصور کا زندہ نمونہ بنا دیا ہے ۔ اولاد ابراہیم کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے ساتھ دنیا میں وہ معاملہ کیا گیا جو وہ سب کے ساتھ آخرت میں کرے گا۔ پہلے اس نے بنی اسرائیل کا انتخاب کیا ۔ جب تک بنی اسرائیل اس کے احکام پر چلتے رہے وہ دنیا کی سب سے بڑ ی قوت بن کر رہے ۔ تمام اقوام ان کے زیر نگیں رہیں۔ جب انہوں نے برائی کی راہ اختیار کی ان کو دنیا میں بھرپور سزا ملی۔ ان پر ایسے حملہ آور مسلط کیے گئے جنہوں نے ان کے مردوں کا قتل عام کیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا ڈالا۔ یہی معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ ہوا۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تو محض پندرہ بیس سال کے عرصے میں انہیں بلوچستان سے لے کر مراکش تک کے علاقے کی سلطنت عطا کی گئی۔ لیکن جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو ان پر تاتاریوں ، صلیبیوں اور پھر مغربی اقوام کو مسلط کیا گیا اور انہیں غلامی کی سزا دی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تاریخ کو بھی مذہبی اور غیر مذہبی دونوں ذرائع سے محفوظ کر دیا ہے ۔ جو چاہے ان اقوام کی تاریخ سے یہ سمجھ لے کہ جزا و سزا کا یہ معاملہ اس کے ساتھ بھی ہونے والا ہے اور جو چاہے اس سے منہ موڑ کر آخری فیصلے کا انتظار کرے ۔

Rehan Ahmed Yusufi