Search

اذان و اقامت سے پہلے درود اور نماز کے بعد ذکر

سوال:

جواب:

نماز اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت میں بھی کسی قسم کے اضافے ، تبدیلی اور ترمیم کی گنجایش نہیں ، چاہے وہ اضافہ کتنا ہی اچھا اور خوشنما نظر آئے ۔جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے یعنی درود اور ذکر وغیرہ وہ اپنی ذات میں بہت اعلیٰ چیزیں ہیں ، مگر انہیں نماز کا حصہ بنانا ، نماز سے آگے پیچھے ان کا اہتمام کرنا ، اس کی دین میں کوئی گنجایش نہیں ۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں ان کے پاس کوئی سند نہیں ۔ نماز میں درود ، انفرادی طور پراور خاموشی کے ساتھ قعدہ کی دعاؤں میں پڑ ھا جاتا ہے ۔یہی حضور کا سکھایا ہوا طریقہ ہے ۔نماز کے بعد بعض اذکار کا احادیث میں تذکرہ ملتا ہے ، مگر یہ انفرادی اذکار ہیں جو خاموشی کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ فرض نمازوں کے بعد اجتماعی طور پر بلند آواز سے ذکر کا کوئی تذکرہ کسی صحیح روایت میں نہیں ملتا۔ صحیح احادیث میں نہ ایسے اعمال کا کا ذکر ہے اور نہ دنیا بھر میں مسلمان ایسے نماز پڑ ھتے ہیں ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے وہ اپنا ثبوت پیش کریں ۔کچھ لوگوں کے کہہ دینے سے کوئی چیز دین نہیں بن جاتی ۔

Rehan Ahmed Yusufi