Search

بدلے اور انتقام کی حدود

سوال:

جواب:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غصہ، بدلہ اور انتقام تینوں کو ایک ہی مقام پر موضوع بنا کر ان کے حدود و قیود واضح کر دیے ہیں ۔ ارشادی باری تعالیٰ ہے ۔

’’(اللہ کا بہترین بدلہ ان اہل ایمان کے لیے ہے کہ جنھیں )اگر غصّہ آجائے تودرگزرکرجاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اورجب ان پرزیادتی کی جاتی ہے تواس کامقابلہ کرتے ہیں ، برائی کابدلہ ویسی ہی برائی ہے ، پھرجوکوئی معاف کر دے اوراصلاح کر لے اس کا اجراللہ کے ذمہ ہے ، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اورجولوگ ظلم ہونے کے بعدبدلہ لیں ان کوملامت نہیں کی جا سکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جودوسروں پرظلم کرتے ہیں اورزمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔اور جس نے صبر کیا اورمعاف کیا ، تو بے شک یہ بڑ ی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے ۔‘‘ (شوریٰ 42: 36-43)

ان آیاتِ کریمہ کی رو سے آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں ۔

۱) اسلام میں بدلہ کا حکم یہ ہے کہ جس پر زیادتی کی جائے اسے بدلہ لینے کا حق ہے ۔گو کہ معاف کرنا زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے ۔

۲) بدلہ کی حدود ان آیات میں بالکل واضح ہیں ۔ یعنی برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ۔کوئی شخص اگر بدلہ لیتا ہے تو وہ ہر گز کسی ملامت کا مستحق نہیں ، تاہم اس بات کی اجازت ہر گز نہیں کہ ایک شخص کابدلہ دوسرے سے لیا جائے ۔اسی طرح بدلہ لیتے وقت کسی قسم کی زیادتی کرنے کی اجازت قطعاً نہیں ہے ۔ اس بات کو قتل کے بدلہ یعنی قصاص کے حوالے سے ایک دوسری جگہ اس طرح کھولا گیا ہے ۔

’’اورجوشخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہواس کے ولی کوہم نے قصاص کے مطالبے کاحق عطاکیا ہے ، پس چاہیے کہ وہ بدلہ میں حدسے نہ گزرے کیونکہ اس کی مدد کی گئی ہے ۔‘‘، (بنی اسرائیل33:17)

۳) اوپر بیان کردہ آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ جس شخص نے زیادتی کی ہو اس سے بدلہ لینے کی بالکل اجازت ہے ، بلکہ قتل کے معاملے میں تو ریاست کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ مظلوم کی دادرسی کرے اور قاتل سے قصاص لے ۔اوپر سورہ بنی اسرائیل کی آیت میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ قتل کے جواب میں قاتل کی جان لینے تک کا حق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو دیا ہے اور ریاست بدلہ لینے کے اس عمل میں اس کی مدد کرے گی۔

۴) آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں قرآنی آیات ہم اوپر نقل کر چکے ہیں ۔

Rehan Ahmed Yusufi