Search

ایصالِ ثواب

سوال:

جواب:

قرآن کریم نے اس بات کو متعدد جگہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا انسانوں کے امتحان کے لیے بنائی ہے ۔انسان اچھے اعمال کرے گا توچھا بدلہ پائے گا اور برا عمل کرے گا تو اس کا برا انجام بھی دیکھ لے گا۔اس دنیا میں ہم جب اپنے بچوں کو امتحان میں بٹھاتے ہیں تو اس میں یہ اصول طے ہوتا ہے کہ بچہ کسی خارجی مدد کے بغیر امتحان کے پرچے میں جو لکھ کر آئے گا اسی کے مطابق اس کا نتیجہ ملے گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بچہ اپنے سوال حل کرنے کے بعد دوسر ے بچوں کے سوالات حل کرنا شروع کر دے ۔ جب ہماری دنیا میں یہ بات اخلاقی اور قانونی طور پر درست نہیں سمجھی جاتی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟ یہ بات جو ہم نے ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کی ہے ، قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’(قیامت کے دن ) کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کہ لیے وہی کچھ ہو گا جو اس نے کمائی کی ہو گی۔‘‘ ، (نجم53: 38۔39)

قرآن کریم کی اس روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ’ایصال ثواب‘ کے نام پر رائج ہمارا یہ تصور کہ ہم ایک اچھا عمل کر کے اس کا ثواب مرنے والوں کو منتقل کر دیں درست نہیں ہے ۔البتہ آپ کی یہ خواہش فطری ہے کہ والدین کے دنیاسے گزرنے کے بعد ان کے لیے کچھ کیا جائے ۔اس کی ممکنہ صورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان کر دی ہیں:

’’انسان کی موت کے بعد تین چیزوں کے سوا اس کے اجر کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے :صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے ۔‘‘ (مسلم، رقم1631)

ان تینوں صورتوں میں سے آپ آخری صورت اختیار کر سکتی ہیں ۔ یعنی آپ والدین کی مغفرت اور درجات میں

بلندی کے لیے دعا کیجیے۔ نیک اولاد جب والدین کے لیے دعا کرتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت حاصل ہوتی ہے ۔

Rehan Ahmed Yusufi