Search

غامدی صاحب کی بے جا مخالفت اور فہمِ دین کا درست رویہ

سوال:

جواب:

آپ نے ایک بہت اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیوں لوگ ایک مختلف بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمارے نزدیک اس کا سبب ہمارے مذہبی لوگوں کی تربیت ہے۔ اس تربیت میں پہلی اور بنیادی بات یہ سکھائی جاتی ہے کہ اپنے عالم، اپنے فرقے اور اپنے گروہ کے سوا حق کسی کے پاس نہیں۔ صرف ہم ہدایت پر ہیں اور باقی سب لوگ گمراہ اور جہنمی ہیں۔ مسئلہ صرف جاوید صاحب کا نہیں ، تمام مذہبی لوگوں کی آرا ایک دوسرے کے بارے میں یہی ہیں۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ ، سنی سب ایک دوسرے کو کافر، گمراہ اور بددین سمجھتے ہیں۔ جاوید صاحب میڈیا پر آج کل ذرا نمایاں ہیں تو توپوں کے دھانوں کا رخ ان کی طرف ہے۔ وگرنہ مذہبی لوگ تو ہمیشہ یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔ یہی ان کی تربیت ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے لوگوں سے ہٹ کر کچھ جدا اور مختلف بات کہے اسے گمراہ قرار دے دیا جائے۔ اسے فتنہ اور دشمنوں کا ایجنٹ قرار دیا جائے اور اپنی مشیخیت، معصومیت اور حق پرستی کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو کس قدر بھڑ کانے والا ہے ، اس کا شعور ان خدائی فوج داروں کو ہر گز نہیں ہے۔

دین کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر کسی کی بات سنی جائے ، اس کی دلیل سمجھی جائے ، قرآن و سنت کے مطابق نہ لگے تو واضح کر دیا جائے کہ ہمارے اختلاف کی بنیاد قرآن و سنت کا فلاں اصول ہے۔ اس سے ہٹ کر الزام تراشی ، تکفیر اور بد گوئی کا رویہ اختیار کرنا تو خود دین کی بنیادی تعلیم کے خلاف ہے۔

جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ بہت سے نوجوان کیوں جاوید صاحب کے خلاف ہیں تو اس کی اہم اور اضافی وجہ یہ ہے کہ مذہبی لوگو ں کی بڑ ی تعداد نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ جاوید صاحب کے خلاف جھوٹ بولیں گے اور جھوٹ پھیلائیں گے ، ہر حقیقت کوتوڑ مروڑ کر پیش کریں گے اور ہر بات کو غلط معنی پہنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ رویہ شروع میں تو کچھ نتائج پیدا کر دیتا ہے ، مگر آہستہ آہستہ جب دھند چھٹتی ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ کس نے اپنی عاقبت کو خراب کیا اور کس نے دین کی خدمت کی ہے۔

ہم اللہ کے بھروسے پر صبر کر کے اپنا کام کر رہے ہیں۔ مخالفین اپنا کام کرتے رہیں۔ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ وقت ہر چیز کا فیصلہ کر دے گا۔

Rehan Ahmed Yusufi