Search

حج کے بعد گناہ کبیرہ اور توبہ

سوال:

جواب:

حج بلاشبہ ایک عظیم عبادت ہے ، بعض احادیث کی رو سے حج کے نتیجے میں گنا ہوں کی مغفرت کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے :

’’جوشخص اللہ کے لیے حج کرے ، پھراس میں کوئی شہوت یانافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اس طرح لوٹتا ہے ، جس طرح اس کی ماں نے اسے آج جنا ہے ۔‘‘(بخاری، رقم1723۔مسلم، رقم1350)

’’عمرے کے بعدعمرہ ان کے درمیان میں ہونے والے گنا ہوں کے لیے کفارہ ہے اورسچے حج کابدلہ توصرف جنت ہی ہے۔‘‘ (بخاری، رقم 1683۔مسلم، رقم1349)

تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حج کے بعد بھی انسان انسان ہی رہتا ہے ، فرشتہ نہیں بنتا۔کوئی شخص اگر پوری نیک نیتی کے ساتھ حج ادا کر لے تب بھی بحیثیت انسان یہ متوقع ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب کرے گا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ اس گناہ کے بعد توبہ کرتا ہے یا نہیں ۔ یاد رکھیے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والا شخص گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہے ۔

وہ بھی گرا نہیں جو گرا پھر سنبھل گیا

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب قرآن کریم میں اپنے بندوں کو یہ امید دلائی ہے کہ وہ بڑ ے سے بڑ ے گناہ کے بعد بھی مایوس نہ ہوں ، بلکہ اس کی طرف رجوع کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا پائیں گے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

’’اے نبی کہہ دو:اے میرے بندوں ، جنھوں نے اپنی جانوں پرزیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ تمام گنا ہوں کوبخش دے گا، وہ بڑ اہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔اور رجوع کرواپنے رب کی طرف اوراس کے مطیع بن جاؤقبل اس کے کہ تم پرعذاب آدھمکے ، پھرتمھاری کوئی مددنہیں کی جائے گی‘‘(الزمر39:53-54)

جو لوگ گناہ کا ارتکاب کر لیتے ہیں اور فوراً توبہ کرتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے گناہ لازماً بخش دیے جاتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اللہ پرتوبہ قبول کرنے کی ذمہ داری توانہی کے لیے ہے جوجہالت سے مغلوب ہوکربرائی کا ارتکاب کربیٹھتے ہیں پھرجلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ۔وہی ہے جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے ۔اوراللہ علم والا اورحکمت والا ہے ۔اوران لوگوں کی توبہ نہیں ہے جوبرابربرائی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سرپر آن کھڑ ی ہوئی توبولاکہ اب میں نے توبہ کر لی۔اورنہ ان لوگوں کی توبہ ہے جوکفرہی پرمرجاتے ہیں ۔ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیارکر رکھا ہے۔‘‘(النسا4 : 17-18)

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ مسلسل گناہ کرنے والوں کو اس آیت میں شدیدوعید دی گئی ہے ۔آپ نے اپنے سوال میں خاص طور پر گناہ کبیرہ کا ذکر کیا ہے ۔ قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان تین سب سے بڑ ے گنا ہوں کا ارتکاب کر لے اور اس کے بعد توبہ کر لے ، تب بھی اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اورجونہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبودکوپکارتے اورنہ اس جان کو، جس کواللہ نے حرام ٹھہرایا، بغیرکسی حق کے قتل کرتے اورنہ بدکاری کرتے ۔اورجوکوئی ان باتوں کامرتکب ہو گاوہ اپنے گنا ہوں کے انجام سے دوچارہو گا۔قیامت کے دن اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیاجائے گا اوروہ اس میں خوارہوکرہمیشہ رہے گا۔مگروہ جوتوبہ کر لیں گے ، ایمان لائیں گے اورعمل صالح کریں گے تواللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اوراللہ بڑ ابخشنے والا، مہربان ہے۔اورجوتوبہ کرتا ہے اورعمل صالح اختیارکرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف لوٹتا ہے۔‘‘(الفرقان25:68-71)

غور فرمائیے کہ ان آیات کے آخری حصے میں توبہ ، تجدید ایمان اور نیکیوں پراستقامت کا صلہ یہ بیان ہورہا ہے کہ انسانوں کی برائیاں بھلائیوں سے بدل جاتی ہیں ۔یہ پروردگار عالم کی وہ رحیم ، کریم اور شفیق ہستی ہے جس سے نہ کبھی مایوس ہونا چاہیے اور نہ کبھی توبہ کرنے میں دیر کرنی چاہیے ۔ چاہے حج کے بعد کوئی گناہ کیا ہو یا اس سے پہلے ۔

جہاں تک حج پر دوبارہ جانے کا تعلق ہے تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہے اور اس بات سے کہ انسان وہاں جانے کے لیے عالم اسباب میں کیا اہتمام کرتا ہے ۔ حج کے بعد اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور فوراًتوبہ کرتا ہے تو اس مطلب یہی ہے کہ اس کی زندگی بدل گئی ہے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان سرکشی ، غفلت اور بے پروائی کا رویہ اختیار کر لے ۔یہ وہ زندگی ہے جو قابل مذمت ہے ، چاہے حج سے پہلے ہو یا بعد۔ لیکن جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرتا ہے وہ اپنے مومن ہونے کا ثبوت دیتا ہے اور جنت کی منزل کا حق دار ہے ۔

ہم نے طے کیں اس طرح سے منزلیں

گر پڑ ے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے

Rehan Ahmed Yusufi