Search

انسانی عقل سے خدا کا وجود جاننا

سوال:

جواب:

اس کائنات کا ذرہ ذرہ یہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق میں ایک Intelligent Designموجود ہے ۔ ایسا کارٹون فلموں کے علاوہ کبھی نہیں ہوتا ہے کہ ریت، سیمنٹ اور دیگر عمارتی اشیا کو ہوا میں اچھال دیا جائے اور جب وہ زمین پر گریں تو خود بخود تاج محل کی شکل اختیار کر لیں ۔ ایسا بھی کبھی نہیں ہوتا کہ روشنائی کو اچھالا جائے اور جب وہ گرے تو غالب کی کسی غزل کی شکل نمودار ہوجائے ۔ کیا اس کائنات میں ایسا ہے؟ اگر یہ کائنات خود بخود بن گئی ہوتی تو اس کی کہکشائیں ، ستارے اور سیارے یوں متعین قوانین کے مطابق حرکت نہ کر رہے ہوتے، سورج سے زمین پر ناپ تول کر اتنی توانائی نہ پہنچتی جو زندگی کے لیے ضروری ہے ، بارشیں صرف اس کرۂ ارض ہی پر نہ برستیں ، انسان اور دیگر حیوانات کے ہاضمے ، دورانِ خون اور اعصاب کے نظام اتنی ترتیب سے کام نہ کر رہے ہوتے اور پودے آکسیجن ہی خارج کر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہی جذب نہ کر رہے ہوتے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ اسے یوں بیان کرتا ہے :

"بے شک آسمان وزمین کی پیدائش، دن و رات کی تبدیلیوں ، کشتیوں کا سمندروں میں لوگوں کے فائدے کے لیے چلنا، اللہ تعالیٰ کا آسمان سے پانی اتار کر اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنا، اس میں ہر طرح کے جانوروں کو پھیلانا، ہواؤں کی گردش اور بادل جو کہ زمین و آسمان کے درمیان مسخر ہیں ، ان سب میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔" (بقرہ2: 164)

اس کائنات کو کیسی ذہانت سے ڈیزائن کر کے بنایا گیا ہے اس حقیقت سے ایک کسان سے لے کر بڑ ے سے بڑ ا سائنس دان واقف ہے ۔ اس لیے کوئی بھی معقول انسان خدا کے وجود سے انکار نہیں کرسکتا۔ ہاں کوئی اپنی خواہشات پر پابندیوں سے بچنے کے لیے خدا کے وجود کا انکار کر سکتا ہے لیکن کوئی بھی غیر جانب دار انسان اسے معقولیت سے تعبیر نہیں کرسکتا۔

Rehan Ahmed Yusufi