Search

اسلام اور موسیقی

سوال:

جواب:

موسیقی کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں اس امت میں دو نقطۂ نظر ہیں:ایک یہ کہ موسیقی قطعاً حرام ہے۔ جبکہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ موسیقی کچھ آداب اور حدود میں رہتے ہوئے جائز ہے ۔ یہ جائز وہ موسیقی ہے جس کے لوازمات نگا ہوں کو آلودہ اورقلب کو ناپاک نہ کریں ، دوسروں کی بہو بیٹیوں کی بدنامی اور شرفا کی رسوائی کا باعث نہ بنیں ، جذبات میں شہوانی ہیجان اور خیالات میں وساوسِِشیطانی کی یلغار کاذریعہ نہ بنیں ، بندے کو رب کی یاد سے غافل کر کے لعو لہب کو اس کی زندگی کا شعار نہ بنادیں ۔ ہم اسی دوسرے نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس طرح کی موسیقی تفریح ، خوشی اور دیگر فطری انسانی جذبات کی عکاس ہے ۔ایسی موسیقی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں نہیں روکا تو ہم کیسے روک سکتے ہیں۔ بخاری کی مشہور روایت ہے جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس دو لڑ کیاں جنگ بعاث کے حوالے سے گانا گا رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ دوسری طرف پھیر کر لیٹ گئے ۔اتنے میں حضرت ابوبکر تشریف لائے ۔ انہوں نے یہ دیکھا تو ناراضی سے فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی آلات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ ابو بکر جانے دو ۔(ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جانے دوآج ان کی عید کا دن ہے )۔‘‘

صحیح بخاری: باب العیدین:527

Rehan Ahmed Yusufi