Search

خدا کا آغاز

سوال:

جواب:

کسی شے یاچیزکامتعین آغازیا اس کی پیدایش کاسوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ واضح ہوجائے کہ مذکورہ شے ایک مخلوق ہے اور اسے کسی خاص وقت پرتخلیق کیا گیا ہے ۔اس کائنات کی ہرشے کے بارے میں سائنسی بنیادوں پریہ بات واضح کی جا سکتی ہے کہ وہ مخلوق ہے اور اپنا ایک متعین آغازرکھتی ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں انسان کاعلم اس قسم کافیصلہ کرنے سے قطعاًعاجزہے ۔انسان تواللہ تعالیٰ کے وجودکوبھی اپنے حواس اور ادراک کی گرفت میں نہیں لے سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی عین عنایت ہے کہ اس نے ذات وصفات کا ضروری علم ہمیں عطا کر دیا ہے تاکہ ہم ظن و تخمین کی وادی سے نکل کر پورے اعتماد اور اطمینان کے اس ہستی کی عبادت کر سکیں جو ہمارا خلاق اور مالک ہے ۔

اس کے بتائے ہوئے علم میں آپ کے متعین سوال کاجواب بھی دیا گیا ہے ۔ اس نے بتایا ہے کہ ہر چیزسے پہلے اللہ خود موجود تھا (حدید57: 3)، وہ کسی تخلیقی عمل کے نتیجے میں پیدانہیں ہوا (اخلاص112: 3) اور وہ اپنی ذات میں مستقل طورپرقائم اورزندہ ہے (بقرہ2: 255)۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس رہنمائی کی بنیادپرہم یہ پورا اطمینان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرآغازوانجام سے بلند، تخلیق وپیدایش سے پاک اورہمیشہ زندہ و قائم رہنے والی ہستی ہیں اور جیساکہ شروع میں ہم نے اشارہ کیا ہے ، انسانی علم اس بات کوچیلنج نہیں کرسکتا اورنہ یہ بات کسی اعتبارسے خلاف عقل ہے ۔

Rehan Ahmed Yusufi