Search

لفظ لمم کا مصداق

سوال:

جواب:

آپ نے سورۂ نجم کی آیت 32کے حوالے سے چھوٹے گنا ہوں سے متعلق جوسوال کیا ہے ، وہ اس آیت کا مدعاپوری طرح نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے ۔ ہم ذیل میں مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیرتدبرقرآن کا ایک اقتباس نقل کیے دیتے ہیں جس میں اس آیت کی تفصیلی وضاحت بھی ہے اورآپ کے ان سوالات کاجواب بھی جوآپ کے ذہن میں پیدا ہوئے ہیں:

’’فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک وہ ہے جوبڑ ے گنا ہوں اورکھلی ہوئی بے حیائیوں سے بچنے والے ہیں ۔ان سے اگرکوئی برائی صادرہوتی ہے تواس کی نوعیت بس یہ ہوتی ہے کہ گویاچلتے چلتے کسی گندگی پرپاؤں پڑ گئے ۔وہ کبھی ٹھوکرکھا کرکسی گناہ میں مبتلاتوہوجاتے ہیں لیکن جس طرح کوئی صفائی پسندکسی گندگی پراپنابسترنہیں ڈال دیتابلکہ جلدسے جلداس سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح یہ بھی یہ نہیں کرتے کہ اس گناہ ہی کواپنا اوڑ ھنابچھونابنالیں ، جلدسے جلدتوبہ واصلاح کے ذریعہ سے اس سے پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔

’المام‘اور’لمم‘کے اصل معنی کسی جگہ ذرادیرکے لیے اترپڑ نے کے ہیں ۔مجاہداورابن عباس سے ’لمم‘کامفہوم یہ نقل ہوا ہے کہ آدمی کسی گناہ میں آلودہ توہوجائے لیکن پھراس سے کنارہ کش ہوجائے ۔مطلب یہ ہواکہ انسان سے یہ مطالبہ نہیں کہ وہ معصوم بن کرزندگی گزارے ۔جذبات اورخواہشوں سے مغلوب ہوکرگناہ کامرتکب ہوجانا اس سے بعید نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کایہ مطالبہ اس سے ضرورہے کہ اس کی حس ایمانی اتنی بیدار رہے کہ کوئی گناہ اس کی زندگی کا اس طرح احاطہ نہ کر لے کہ اس کے لیے اس سے پیچھاچھڑ اناہی ناممکن ہوجائے بلکہ جب بھی اس کانفس اس کوٹھوکرکھلائے وہ متنبہ ہوتے ہی توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے ۔جولوگ اس طرح زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے گنا ہوں کومعاف فرمادے گا۔اس کادامن مغفرت بہت وسیع ہے ۔

سورۂ نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :

’اللہ پرصرف ان کی توبہ کی قبولیت کی ذمہ داری ہے جوجذبات سے مغلوب ہوکربرائی توکربیٹھتے ہیں پھرجلدی توبہ کر لیتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی توبہ اللہ قبول کر لیتا ہے ہے ۔اوراللہ علیم وحکیم ہے۔ اور ایسے لوگوں کی توبہ، توبہ نہیں ہے جوبرائی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پرآن کھڑ ی ہوئی تو وہ بولاکہ اب میں نے توبہ کی اوران لوگوں کی بھی توبہ نہیں ہے جوکفرہی کی حالت میں مرتے ہیں ۔یہی ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیارکر ر کھا ہے ‘۔ (النسا4:17-18)

کبٓرالاثْم والفواحش‘میں ’اثم‘سے مرادوہ گناہ ہیں جن کاتعلق غصبِ حقوق اورظلم وتعدی سے ہے اور’فاحشہ‘سے مراد کھلی ہوئی بے حیائیاں اوربدکاریاں ہیں ۔’کبائر‘سے بچنے کی جوہدایت فرمائی گئی ہے تواس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صغائرپرکوئی گرفت نہیں ہے بلکہ اس میں حکمت، جیساکہ اس کے محل میں ہم وضاحت کر چکے ہیں ، یہ ہے کہ جو لوگ کبائرسے بچتے ہیں ان کی حس ایمانی اتنی قوی ہوجاتی ہے کہ وہ صغائرکے ارتکاب پر کبھی راضی نہیں ہوتے جوہزاروں کی امانت ادا کرتا ہے وہ کسی کے دھیلے پیسے میں خیانت کر کے خائن کہلانے پرکس طرح راضی ہو گا۔‘‘

Rehan Ahmed Yusufi