Search

مہدی اور مسیح علیہ السلام

سوال:

جواب:

ہمارے ہاں جو نقطۂ نظر رائج ہے وہ یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مہدی بن کر دوبارہ آنا ہے ، بلکہ ہمارے ہاں لوگ دونوں کی الگ الگ آمد کے قائل ہیں۔ تاہم ہمیں اس سے اختلاف ہے ۔ہمارا نقطۂ نظر استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی رائے پر مبنی ہے جو انہوں نے نے اپنی کتاب میزان کے باب ایمانیات میں روزِ جزا پر ایمان کے ضمن میں علاماتِ قیامت کے زیرِ عنوان اس طرح بیان کی ہے:

"ان کے علاوہ ظہورِمہدی اورمسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کوبھی قیامت کی علامات میں شمار کیا جاتا ہے ۔ہم نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہورِمہدی کی روایتیں محدثانہ تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ان میں کچھ ضعیف اورکچھ موضوع ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں جو سند کے لحاظ سے قابلِ قبول ہیں ، ایک فیاض خلیفہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے ، لیکن دقتِ نظرسے غور کیا جائے توصاف واضح ہوجاتا ہے کہ اس کامصداق سیدناعمربن عبدالعزیز تھے جو خیر القرون کے آخرمیں خلیفہ بنے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی ان کے حق میں حرف بہ حرف پوری ہو چکی ہے۔ اس کے لیے کسی مہدی موعودکے انتظارکی ضرورت نہیں ہے۔ نزول مسیح کی روایتوں کواگرچہ محدثین نے بالعموم قبول کیا ہے، لیکن قرآنِ مجید کی روشنی میں دیکھیے تو وہ بھی محلِ نظرہیں ۔

اولاً، اس لیے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت قرآن مجیدمیں کئی پہلوؤں سے زیربحث آئی ہے ۔ان کی دعوت اورشخصیت پرقرآن نے جگہ جگہ تبصرہ کیا ہے۔روزِقیامت کی ہلچل بھی قرآن کاخاص موضوع ہے۔ ایک جلیل القدرپیغمبرکے زندہ آسمان سے نازل ہوجانے کاواقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔لیکن موقعِ بیان کے باوجوداس واقعے کی طرف کوئی ادنیٰ اشارہ بھی قرآن کے بین الدفتین کسی جگہ مذکورنہیں ہے۔ علم وعقل اس خاموشی پرمطمئن ہو سکتے ہیں ؟اسے باورکرناآسان نہیں ہے ۔

ثانیاً، اس لیے کہ سورۂ مائدہ میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے جو قیامت کے دن ہو گا۔اس میں اللہ تعالیٰ ان سے نصاریٰ کی اصل گمراہی کے بارے پوچھیں گے کہ کیاتم نے یہ تعلیم انھیں دی تھیں کہ مجھ کو اورمیری ماں کوخداکے سوامعبودبناؤ۔اس کے جواب میں وہ دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ میں نے توان سے وہی بات کہی جس کاآپ نے حکم دیا تھا اورجب تک میں ان کے اندرموجودرہا، اس وقت تک دیکھتا رہاکہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو میں نہیں جانتاکہ انھوں نے کیابنایا اورکیابگاڑ ا ہے ۔اس کے بعدتوآپ ہی ان کے نگران رہے ہیں ۔اس میں دیکھ لیجیے ، مسیح علیہ السلام اگرایک مرتبہ پھردنیامیں آ چکے ہیں تویہ آخری جملہ کسی طرح موزوں نہیں ہے ۔ اس کے بعدتوانھیں کہناچاہیے کہ میں ان کی گمراہی کواچھی طرح جانتا ہواورابھی کچھ دیرپہلے انھیں اس پرمتنبہ کر کے آیا ہوں ۔فرمایا ہے :

’’میں نے توان سے وہی بات کہی جس کاتونے مجھے حکم دیا تھاکہ اللہ کی بندگی کروجومیرابھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی، اورمیں ان پرگواہ رہا، جب تک میں ان کے اندرموجودرہا، پھرجب تونے مجھے اٹھالیاتوان پر تو ہی نگران رہا ہے اورتوہر چیزپرگواہ ہے ۔‘‘ (مائدہ5: 117)

ثالثاً، اس لیے کہ سورۂ آلِ عمران کی ایک آیت میں قرآن نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں قیامت تک کا لائحۂ عمل بیان فرمایا ہے ۔ یہ موقع تھاکہ قیامت تک کے الفاظ کی صراحت کے ساتھ جب اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بیان کر رہے تھے جوان کے اوران کے پیرو وں کے ساتھ ہونے والی ہیں تویہ بھی بیان کر دیتے کہ قیامت سے پہلے میں ایک مرتبہ پھرتجھے دنیا میں بھیجنے والا ہوں ۔مگراللہ نے ایسانہیں کیا۔ سیدنامسیح کوآنا ہے تویہ خاموشی کیوں ہے ؟اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔آیت یہ ہے :

’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں وفات دوں گا اوراپنی طرف اٹھالوں گا اور(تیرے )ان منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کوقیامت کے دن تک ان منکروں پرغالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کوبالآخرمیرے پاس آنا ہے ۔سواس وقت میں تمھارے درمیان ان چیزوں کافیصلہ کروں گاجن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘ (3: 55) [میزان ، ص 177۔179]

Rehan Ahmed Yusufi