Search

مسلمانوں اور غیر مسلموں کی نجات

سوال:

جواب:

یہ بات کہ بہت سے لوگ جہنم کی آگ سے رہائی پا کر جنت میں جائیں گے متعدد صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے ۔ مثلاً ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :

’’حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سی جماعتیں اپنے گناہوں کی وجہ سے آگ کا عذاب بھگت کر سیا ہ ہوجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر دے گا۔ ان لوگوں کو جہنمی کہا جائے گا۔‘‘ (بخاری ، رقم7012)

یہ بات علم و عقل کے خلاف نہیں ۔قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنمیوں کی دو اقسام ہوں گی۔ ایک وہ لوگ جن کی زندگی سرتاسر گناہ و نافرمانی میں گذری ہو گی۔ تکبر، سرکشی اور فسق و فجور ان کا اوڑ ھنا بچھونا رہا ہو گا۔ ایسے لوگ ابدی جہنم کی سزا پائیں گے ۔ دوسرے جہنمی وہ ہوں گے جن کے گنا ہوں کی مقدار ان کی نیکیوں سے زیادہ ہو گی۔ان کو بھی جہنم کی سزا ملے گی۔ مگر جیسے جیسے وہ سزا پوری کرتے جائیں گے مختلف اوقات میں ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیا جائے گا۔احادیث میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ ایسے ہی لوگ ہیں ۔ اس دنیا میں بھی بعض لوگوں کو سزائے موت (capital punishment)دی جاتی ہے اور بعض لوگ اس سے کم درجہ کی جانی و مالی سزا کے حق دار ہوتے ہیں ۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اپنی سزا بھگتنے کے بعد رہا ہوجاتے ہیں ۔

ہم نے جو بات بیان کی ہے وہ بالکل واضح ہے اور وہ کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجایش باقی نہیں چھوڑ تی۔تاہم امتیں اپنے دور زوال میں ایسی باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہیں کہ یہ خاص ہمارے لیے ایک رعایت ہے کہ اللہ تعالیٰ گنتی کے چند دن ہمیں آگ میں ڈالیں گے اور پھرہمیں ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ یہود کی ایسی ہی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا:

’’اوروہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔پوچھو: کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرالیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گایا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمھیں کچھ علم نہیں ۔ کیوں نہیں ، جس نے کوئی بدی کمائی اور اس کے گناہ نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔‘‘ (البقرہ2: 80۔81)

ان آیات میں اس مسئلے سے متعلق ایک فیصلہ کن بات کر دی گئی ہے ۔ وہ یہ کہ جب انسان گنا ہوں میں اس طرح ملوث ہوجائے کہ گناہ اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں اس کی صبح و شام انھی میں گزرتی ہو تو ایسے شخص کا انجام ابدی جہنم ہو گا۔چاہے انسان خود کو کتنا ہی مسلمان سمجھے ۔اس بات کی دین میں کوئی یقین دہانی نہیں کہ مسلمان آخر کار جنت میں جائیں گے ۔ تمام گنا ہوں کی معافی کے حوالے سے قرآن پاک میں اگر کوئی بات کہی گئی ہے تو وہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان سے مشروط ہے (نساء4: 48 ، 116)۔ احادیث کو بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے ۔ رہا آخرت میں نجات کا معاملہ توجوشخص آخرکار جنت میں جانے کی امید پر گناہ کرتا رہے ، اس بات کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے کہ اس میں موت کے وقت تک ایمان باقی رہے گا۔

Rehan Ahmed Yusufi