Search

نماز کی جگہ فلاحی کام کرنا

سوال:

جواب:

آپ کے سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ عبادت اور اس کا حق ہے ۔کوئی اور عمل خواہ کتناہی مفید کیوں نہ ہو، اس کا بدل کبھی نہیں بن سکتا۔تاہم اگر نماز کی حقیقت پر غور کیا جائے تو پھر یہ سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔نماز خدا کی پرستش ہے ۔ یہ بندگی کی علامت ہے ۔اپنے سارے ضروری کام چھوڑ کر جب آپ نماز کے لیے کھڑ ے ہوتے ہیں تو آپ خالق اور مخلوق دونوں کو یہ بتاتے ہیں کہ آپ خود کو آزاد نہیں ، بلکہ ایک رب کا بندہ سمجھتے ہیں ۔ اس کی مرضی کا پابند سمجھتے ہیں ۔خود کو رب کا غلام سمجھنا ہی وہ چیز ہے جو جنت میں جانے کی ضمانت ہے ۔اسی لیے نماز کو جنت کی کنجی قرار دیا گیا ہے ۔

جہاں تک فلاحی کام کا تعلق ہے تو جس شخص نے فلاحی کام کرنے ہیں وہ نماز پڑ ھ کر بھی یہ کام کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے نماز چھوڑ نا ضروری نہیں ۔ قرآن کریم میں نماز کا مقصدیہ بیان ہوا ہے کہ اس سے انسان کو خدا یاد رہے (طہ14 :20)۔ جس انسان کو ہمیشہ خدا یاد رہے وہ بندوں کے حقوق کے معاملے میں لازماًحساس رہتا ہے۔ یہی حقوق العباد فلاحی کاموں کی بنیاد ہیں ۔

ہمارے دفتروں میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری نماز پر نہیں ڈالی جا سکتی ۔ ایسے غیر ذمہ دار لوگ اگر نماز بھی نہیں پڑ ھیں گے تو کسی اور طریقے سے کام کو ٹالیں گے ۔رہا مغرب کی ترقی کا سوال تو اس کا نماز چھوڑ نے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دینا ان کے قوم کی مزاج کا حصہ ہے ۔ ان میں سے جو لوگ مسلمان ہیں وہ نماز پڑ ھ کر بھی اسی طرح کام کرتے ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ دفتری اوقات میں نمازوں کو طول نہیں دینا چاہیے ۔اس مقصد کے لیے گھر میں تنہا پڑ ھی جانے والی نفل نمازیں بہتر رہتی ہیں۔

Rehan Ahmed Yusufi