Search

پیر اور بیعت

سوال:

جواب:

آپ کے سوالات کے ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔پیر کا کوئی تصور اسلام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اہل تصوف کا متعارف کرایا ہوا ایک طریقہ ہے جس میں عام لوگوں کو اصلاح کی غرض سے کسی ایک شخص سے وابستہ کر دیا جاتا ہے ۔ تاہم اس طریقے میں جتنے فوائد ہیں اتنے ہی نقصانات کا اندیشہ ہے ۔مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ پیر پرستی اکثر اوقات شرک، توہمات اوربدعات وغیرہ کی طرف لے جانے کا باعث بن جاتی ہے ۔اسلام میں اصلاح کا طریقہ پیری مریدی کا نہیں ، بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ہے ، جسے تواصی بالحق اور تواصی بالصبر بھی کہا جاتا ہے ۔ ان کا بیان قرآ ن مجید میں اس طرح آیا ہے :

’’زمانہ گواہی دیتا ہے کہ یہ انسان خسارے میں پڑ کر رہیں گے ۔ہاں ، مگر وہ نہیں جو ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک عمل کیے ، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کی۔‘‘ (عصر103: 1۔3)

’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔باہم دگربھلائی کی نصیحت کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔‘‘( التوبہ9:71)

جہاں تک اطاعت اور پیروی کا سوال ہے تو قرآن کریم میں غیر مشروط اطاعت صرف اللہ اور رسول کے لیے بیان ہوئی ہے ۔باقی ہر شخص کی بات کو دین کی کسوٹی پر پرکھ دیکھا جائے گا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں ۔ بات ٹھیک ہے تو مانی جائے گی ورنہ نہیں ۔

۲۔کسی پیر سے بیعت کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ۔ہم پیچھے عرض کر چکے ہیں کہ یہ پورا طریقہ ایک اچھے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے اخذکیا ہے ، لیکن یہ قرآن و سنت کا بتایا ہوا طریقہ نہیں ہے ۔کسی پیر کی بات اگر قرآن مجید سے زیادہ اہم ہوجائے اور وہ والدین کے حقوق کی پامالی پر ابھارنے لگے تو ظاہر ہے کہ یہ وہی چیز ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے کہ اس طریقے میں جتنے فوائد ہیں اتنے ہی نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ یہ رویے ان نقصانات کی بڑ ی نمایاں مثالیں ہیں ۔

اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ اسلام میں صرف ایک ہی بیعت کا تصور ہے اور وہ اپنی حکومت کے سربراہ سے سمع و طاعت کی بیعت ہے ۔اس کے سوا کسی بیعت کی کوئی دینی حیثیت نہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین سے لوگ اطاعت کی یہی بیعت کیا کرتے تھے ۔اللہ اور رسول کے علاوہ حکمرانوں کی اس اطاعت کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیا ہے:

’’ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرواوراس کے رسول کی اطاعت کرواوران لوگوں کی جوتم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر تمھارے درمیان اگرکسی معاملے میں اختلاف راے ہوتو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو، اگرتم اللہ پراورقیامت کے دن پرایمان رکھتے ہو۔یہ اچھا ہے اورانجام کے لحاظ سے بھی یہی بہتر ہے ۔‘‘ (نساء4: 59)

اس آیت کے مطابق مسلمانوں کے لیے اطاعت کا اصل ماخذ اللہ اور رسول ہیں ۔ ان کے کسی حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ۔ ان کے بعد ریاست کے نظم اور اس کے چلانے والے صاحبِ امریعنی حکمرانوں کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ ہاں اگر ان سے اختلاف ہوجائے تو فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہو گا۔

Rehan Ahmed Yusufi