Search

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ اختیار کرنا

سوال:

جواب:

وسیلہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی مسئلے کے لیے حاضر ہو اوراپنے ساتھ اپنی تائید میں کسی اور کو بھی دعا کے لیے پیش کرے ۔ظاہر ہے کہ اس کی یہی شکل ممکن ہے کہ کسی سے دعا کے لیے کہا جائے یا پھر خود دعا کرتے وقت کسی اور کو ساتھ ملالیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اب یہ دونوں شکلیں اختیار کرنا ممکن نہیں ہے ۔یہی سبب ہے کہ سیدنا عمر نے اپنے زمانے میں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں نہیں رہے تھے ، اس طریقے کو اختیار کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس کو بارش کے لیے دعامانگتے وقت ساتھ رکھا۔انہوں نے دعا میں بھی یہ بات واضح کر دی کہ اب جب کہ نبی کریم موجود نہیں ہیں تو ہم ان کے چچاکو دعا کے لیے اپنے ساتھ پیش کر رہے ہیں ۔اگر وسیلے کا مطلب وہی ہوتا جو آب کل کے لوگ سمجھتے ہیں تو پھر حضرت عباس سے دعا کرانے کی ضرورت نہ تھی ۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ ، جس طرح آج مانگا جاتا ہے ، مانگ سکتے تھے ، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔یہ بات امام بخاری نے اپنی "صحیح" کی کتاب استسقا میں اس طرح بیان کی ہے:

’’ حضرت انس سے روایت ہے کہ لوگ جب قحط زدہ ہوتے توعمر ابن خطابؓ حضرت عباسؓ کو ساتھ لے پانی برسنے کی دعا مانگتے ۔ وہ فرماتے کہ اے اللہ (پہلے )ہم اپنے نبی کے ساتھ توسل کیا کرتے تھے اور تو پانی برسادیتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ساتھ توسل کرتے ہیں ، پس تو بارش برسا دے ۔ (حضرت انس کہتے ہیں کہ )پانی برسنے لگتا تھا۔‘‘، (بخاری، رقم964)

ایک اور صحیح روایت میں اس واقعہ کے ساتھ یہ پس منظر بھی بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے مانگنے کا مطلب یہ تھا کہ لوگ حضورسے دعا کے لیے کہتے ، حضور دعا مانگتے تو بارش ہوجاتی:

’’حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ جب قحط زدہ ہوتے توبنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرتے کہ وہ پانی برسنے کی دعا کریں ۔ حضور لوگوں کے لیے بارش کے برسنے کی دعا کرتے توبارش ہوجاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر ابن خطابؓ کے دورِ حکومت میں قحط پڑ ا تو حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ کو لے کر نکلے کہ ان کے ساتھ بارش کے برسنے کی دعا کریں ۔ وہ فرماتے کہ اے اللہ ، ہم تیرے نبی کے زمانے میں قحط کا شکار ہوتے تو ان کے ذریعے سے بارش کے برسنے کی دعا مانگا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برسا دیتا تھا۔آج ہم اپنے نبی کے چچا کے ساتھ توسل کرتے ہیں ، پس تو بارش برسادے ۔ (حضرت انس کہتے ہیں کہ )پانی برسنے لگتا تھا۔‘‘ ، (ابن حبان، رقم2861)

واضح رہے کہ وسیلہ دعا کے آداب میں شامل ہے اور نہ دعا کی قبولیت اس پر منحصر ہے ۔قرآن کریم میں بے شمار انبیا کی دعائیں نقل ہوئی ہیں اور احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان گنت دعائیں منقول ہیں ، مگرکسی میں وسیلے کا ذکر نہیں ہے ۔تاہم چونکہ کسی اور سے دعا کرانا کوئی ممنوع فعل نہیں ، اس لیے اس کی ممانعت نہیں کی جا سکتی۔اس لیے آج بھی وسیلے کا صحیح طریقہ ، اگر کوئی اسے اختیار کرنا چاہے ، یہی ہے کہ وہ کسی زندہ صالح شخص سے دعا کی درخواست کرے ۔اللہ تعالیٰ اگر چاہیں گے تو دعا قبول کر لیں گے ۔

Rehan Ahmed Yusufi