Search

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقامِ محمود کی دعا

سوال:

جواب:

آپ نے اذان کے بعدکی جانے والی دعاسے یہ نتیجہ درست اخذ نہیں کیاکہ ہم اللہ تعالیٰ کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان کاوعدہ پورا کرنے کی یاد دہانی کروا رہے ہیں ۔دعاکا اصل پس منظرکچھ اورہے اسے اچھی طرح سمجھ لیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے لیے جوقربانیاں دیں اورکارنبوت کی عظیم ذمہ داریاں جس طرح اٹھائیں ، ان کا اصل بدلہ توآپ کواللہ تعالیٰ ہی دے سکتے ہیں ۔تاہم آپ کی ان قربانیوں کی بناپرہم گناہ گاروں کے لیے جنت کے حصول اوراللہ کی رحمت حاصل کرنے کادروازہ کھل گیا ہے ، اس لیے ہم پر آپ کایہ حق ہے کہ ہم آپ کے لیے درجات کی بلندی کی دعا کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیاجانے والا جو بلند سے بلند درجہ ہمارے علم میں ہے وہ یہی ’مقام محمود‘ہے ۔جس کاذکرسورۂ بنی اسرائیل (17)کی آیت 29 میں کیا گیا ہے ۔ ہم دراصل اس حوالے کو اپنی دعامیں استعمال کر کے اس بات کا اظہارکرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات کو ہم نہیں جان سکتے ، اس لیے اے اللہ، آپ انہیں وہ مقام عطافرمائیے جو آپ نے طے کر رکھا ہے اورا سی وجہ سے سب سے بہتر ہے۔ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے انہی کی بات رکھ دیتے ہیں تاکہ ہم سے اس بلندبارگاہ میں کسی تقصیراور گستاخی کا ارتکاب نہ ہو۔رہا وعدہ یاد دلانے کے اسلوب کا سوال تو اس طرح دعا کرنا تو خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن پاک میں سکھایا ہے ۔سورۂ آل عمران (3) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی ایک بڑ ی دل نواز دعا نقل کی ہے جس کا اختتام اسی جملے پر ہوتا ہے کہ بے شک تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا (آیت 194)۔ یہ طریقہ اگر گستاخی ہوتا تو اسے اللہ تعالیٰ ہر گز نہ سکھاتے ۔ یہ گستاخی نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی صفاتِ عدل و رحمت پر اپنے بھرپور اعتماد کے اظہار کا بہت خوبصورت انداز ہے ۔ یہ اتنا موثر اسلوب ہے کہ اگلی آیت195 میں اللہ تعالیٰ اس دعا کی قبولت کی ضمانت دیتے ہیں ۔بالکل یہی چیز زیر بحث دعا میں بھی کی گئی ہے ۔

Rehan Ahmed Yusufi