Search

موطأ الإمام مالك میں مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کا ذکر؟

سوال:

جواب:

موطأ کی روایت درج ذیل ہے

وبه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”اراني الليلة عند الكعبة، فرايت رجلا آدم كاحسن ما انت راء من ادم الرجال، له لمة كاحسن ما انت راء من اللمم، قد رجلها فهي تقطر ماء، متكئا على رجلين، او على عواتق رجلين يطوف بالبيت، فسالت: من هذا؟، فقيل لي: المسيح ابن مريم، ثم إذا انا برجل جعد قطط اعور العين اليمنى، كانها عنبة طافية، فسالت: من هذا؟، فقيل: هذا المسيح الدجال“.

اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج رات (اللہ نے) مجھے خواب دکھایا کہ میں کعبہ کے پاس ہوں، پھر میں نے ایک گندمی رنگ کا آدمی دیکھا، تم نے جو گندمی لوگ دیکھے ہیں وہ ان میں سب سے خوبصورت تھا، تم نے کندھوں تک سر کے جو لمبے بال دیکھے ہیں ان میں سب سے زیادہ خوبصورت اس کے بال تھے جنہیں اس نے کنگھی کیا تھا، پانی کے قطرے اس کے بالوں سے گر رہے تھے، اس شخص نے دو آدمیوں یا ان کے کندھوں پر سہارا لیا ہوا تھا اور بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں، پھر میں نے ایک آدمی دیکھا جو دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے بال بہت زیادہ گھنگریالے تھے، اس کی (کانی) آنکھ اس طرح تھی جیسے پھولے ہوئے انگور کا دانہ ہے میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ مسیح دجال ہے۔“ (موطا امام مالك، حدیث 26)

اس روایت میں صرف یہ ذکر ہے کہ آپ نے مسیح علیہ السلام کو کعبے کا طواف کرتے دیکھا۔ اس سے آمد ثانی کا مفہوم پہلے سے بنے خیال کی وجہ سے استنباط ہے۔ خود حدیث میں بیان کردہ خواب ایسا کوئی مفہوم از خود نہیں دے رہا۔ انبیاء کے خواب بلاشبہ سچے ہوتے ہیں لیکن خواب میں تمثیل ہوتی ہے اور اُس کی حقیقت اُس کے پورے ہونے پر ہی سمجھ آتی ہے مثلًا حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب میں چاند سورج اور گیارہ ستارے اُن کے سامنے سجدہ ریز ہوئے اور حقیقت میں اُس کی تاویل اور تھی۔ اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا تو مقصد یہ تھا کہ بیٹے کو اللہ تعالٰی کے گھر کی خدمت کے لئیے وقف کیا جائے۔ 

یہ روایت بخاری کتاب الانبیاء باب 48 میں بھی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے- وہاں پر الفاظ یوں ہیں

وَهْوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ‏.‏ ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلاً وَرَاءَهُ جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَىْ رَجُلٍ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ (حدیث 3440)

"...وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اس کے بعد میں نے ان کے پیچھے ایک شخص کو دیکھا ، سخت اور مڑے ہوئے بالوں والا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا ۔ اسے میں نے ابن قطن سے سب سے زیادہ شکل میں ملتا ہوا پایا ، وہ بھی ایک شخص کے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا ، یہ کون ہیں ؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے ۔"

بخاری کی اس روایت میں مذکور ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے خواب میں دجال کو بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا- اب دجال کے بارے میں ہی دوسری مشہور روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا- اس صورت میں کیا اس روایت کو مستقبل میں مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا بھی جا سکتا ہے، جب کہ اس میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں؟

Mushafiq Sultan