Search

شفاعت اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم

سوال:

جواب:

برادرم توفیق صاحب ، آپ میرے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں کہ میرا نقطۂ نظر مکمل قرآن ہی سے ہے۔ تاہم جب کوئی بات صحیح احادیث میں بیان ہوتی ہے اور وہ قرآن کریم اور علم وعقل کے مسلمات کے خلاف بھی نہیں ہے تو میں اُسے بھی مانتا ہوں کیونکہ یہی ائمہ محدثین کے قائم کردہ معیارات ہیں۔ چنانچہ صحیح احادیث کی بنیاد ہی پر میں نے شفاعت کے معاملے میں نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کا نام لیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے مضمون میں اس بات کے کافی دلائل قرآن سے دے چکا ہوں کہ شفاعت ہو گی (مثلاً سورۂ نبا ، آیت 38)۔ قرآن کے اس بیان کے بعد کوئی اس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔لیکن قرآن ہی یہ بات بھی واضح کرتا ہے کہ اﷲتعالیٰ اس شفاعت کی اجازت جس کو دیں گے صرف وہی شفاعت کر سکے گا اور جس کے لیے دیں گے اسی کے لیے یہ ہو گی اور وہ انصاف سے ہٹ کر بھی ہر گز نہ ہو گی۔جب یہ بات قرآن ہی سے بالکل واضح ہے کہ شفاعت ہو گی توسوال یہ ہے کہ کیا نعوذباﷲ پھر ابو جہل اور ابو لہب یہ شفاعت کریں گے؟ ہر گز نہیں ، بلکہ صحیح احادیث ہمیں اس کا جواب دیتی ہیں اور قرآن اور عقلِ عام بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ شفاعت کا یہ تاج اگر کسی کو پہنایا جائے گا تو وہ صرف پیغمبر اور صالحین ہی ہو سکتے ہیں ۔رسول اﷲ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ یہ اُن کا ایک خصوصی اعزاز ہو گا جو اﷲتعالیٰ اُن کو عطا فرمائیں گے اور مجھے یہ بات قرآن کی رو سے کسی طرح بھی غلط نہیں لگتی۔جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اگر کوئی شخص اس معاملے میں کسی اور کا نام لے تو میرے اصول یہاں بھی وہی ہوں گے جن کے تحت میں نے رسول اﷲ کا نام لیا ہے یعنی کیا کسی صحیح حدیث میں ایسی کسی ہستی کے بارے میں بتایا گیا ہے؟

Rehan Ahmed Yusufi