Search

طاغوت کا مطلب اور سورۂ نحل کی آیت 36

سوال:

جواب:

آپ کے سوال سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ کی دوست انسان کے بنائے ہوئے قوانین کو طاغوت کا مصداق سمجھتی ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ بات محل نظر ہے ۔ طاغوت کادرست مفہوم کیا ہے ، اس حوالے سے ہم امام امین احسن اصلاحی کی تحقیق آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جو انھوں نے اپنی تفسیر تدبر قران میں سورۂ بقرہ کی آیت 256کی تفسیرمیں بیان کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

’’طاغوت بروزن ملکوت وجبروت، طغیٰ، کے مادہ سے ہے جس کے معنی حدسے بڑ ھ جانے کے ہیں۔ جو چیز اپنی حدِمناسب سے آگے بڑ ھ جائے اس کے لیے عربی میں کہیں گے ’’طغیٰ‘‘، ’’طغی الماء‘‘پانی حد سے آگے بڑ ھ گیا۔ قوم ثمودجس آفت سے ہلاک ہوئی اس کے لیے طاغیہ کالفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی حدسے بڑ ھ جانے والی آفت کے ہیں ۔یہیں سے یہ لفظ حدودعبدیت وبندگی سے نکل جانے کے لیے استعمال ہوا اورجوحدودبندگی سے نکل جائے اس کوطاغوت کہنے لگے ۔پھر وسعت اختیارکر کے یہ لفظ ان چیزوں پربھی حاوی ہو گیاجوحدودبندگی سے نکل جانے کاباعث یاذریعہ بنیں ۔اہل لغت اسی وجہ سے اس کی تشریح عام طورپریوں کرتے ہیں کہ"اَلطَّاغُوْتُ عِبَارَۃٌ عَنْ کُلِّ مُعْتَدٍّ وَکُلِّ مَعْبُوْدٍ مِنْ دُوْنِ اللّہٰ۔طاغوت سے مراد ہر وہ وجود ہے جوبندگی سے نکل جائے اورہروہ معبودہے جس کی اللہ کے سواپرستش کی جائے۔‘‘ (تدبر1/591)

اس تحقیق کے مطابق طاغوت کی تعریف بالکل واضح ہے یعنی ’طاغوت سے مرادہروہ وجود ہے جوبندگی سے نکل جائے اورہروہ معبودہے جس کی اللہ کے سواپرستش کی جائے ‘۔جہاں تک سورۂ نحل کی اس آیت کا تعلق ہے جو آپ نے نقل کی ہے ، اس کی وضاحت اِسی مقام پر اصلاحی صاحب یوں کرتے ہیں :

’’قرآن نے اس لفظ (طاغوت)کامختلف مقامات میں استعمال کیا ہے اورہرجگہ اس کے مقابل کا ذکر کر کے اس کے مختلف مفہوموں پر روشنی ڈالی ہے ۔مثلاًزیربحث آیت (بقرہ : آیت 256) میں ہے: فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہ۔ یہاں کے تقابل سے واضح ہے کہ طاغوت سے مراد ماسوا اللہ ہے ۔ سورۂ نحل میں ہے: أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ۔ یہاں بھی اللہ کے سوادوسرے معبودان باطل مرادہیں ۔‘‘ (تدبر1/591)

اس تفصیل کی روشنی میں یقینا اہل ایمان کا رویہ طاغوت کے بارے میں وہی ہونا چاہیے جو آپ نے بیان کر دیا ہے ۔ تاہم تدبر قرآن کے اس مقام سے یہ بات بھی واضح ہے کہ طا غوت کا ا طلاق انسانوں کے بنائے ہوئے سیکولر قوانین پر نہیں ہوتا۔ہم سر دست یہ بحث نہیں کر رہے کہ مسلم اور غیر مسلم مماملک میں نافذ قوانین اسلامی معیارات کے مطابق درست ہیں یا غلط۔ ہم صرف یہ واضح کر رہے ہیں کہ قرآن کریم میں بیان کردہ ’طاغوت‘ کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔آپ دنیا کے جس خطے میں بھی رہیں ایمان ، عمل صالح اور حق کی تلقین کے ان بنیادی اسلامی تقاضوں پر قائم رہیں جو سورۂ عصر میں بیان ہوئے ہیں ۔ یہی ایک ایک عام انسان کی حیثیت سے دین کا آپ سے مطالبہ ہے ۔

وضاحتی سوال: کیا آپ اپنے پچھلے جواب کے آخری پیرا گراف کی حوالوں کے ذریعے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بتا سکیں گے کے آپ اس نتیجے پر کیسے پہنچے کہ ’طاغوت‘ کا اطلاق سیکولر قوانین پر نہیں ہوتا؟ (بیگم ظہیر صاحبہ)

جواب: میں نے اپنے پچھلے جواب میں تدبر قرآن کے حوالے سے لفظ طاغوت کا مفہوم و مدعا واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُس کی رو سے طاغوت کا مفہوم اس طرح متعین ہوا تھا :

’طاغوت سے مرادہروہ وجود ہے جوبندگی سے نکل جائے اورہروہ معبودہے جس کی اللہ کے سواپرستش کی جائے ‘

ظاہر ہے کہ سیکولر قوانین پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔آپ اگر میری بات سے اختلاف کرتی ہیں تو ا س کے لیے دلائل پیش کیجیے ۔ پچھلے سوال میں سورۂ نحل کی ایک آیت کے حوالے سے آپ نے طاغوت کا جو مدعا متعین کیا تھا اس کا جواب میں نے دے دیا تھا۔ اب آپ یا تو میرے جواب کی غلطی واضح کیجیے یا پھر قرآن کریم کاکوئی اور مقام پیش کیجیے جو اس بات کو ثابت کرسکے کہ لوگ جو قانون روزمرہ زندگی کے لیے بناتے ہیں وہ طاغوت ہوتا ہے ۔

جہاں تک سیکولر قوانین کا تعلق ہے تو میں یہ واضح کر دوں کہ دین کی تعلیمات کے مطابق ان کا درست ہونا ضروری نہیں ۔ سیکولر قوانین غلط ہو سکتے ہیں ۔ وہ شریعت کے خلاف ہو سکتے ہیں ۔ ایسے قوانین کو ہم یقیناً غلط قرار دیں گے۔ اگر ہم مسلم اکثریت کے ملک میں رہتے ہیں تو رائے عامہ ہموار کر کے انہیں بدلوانے کی کوشش بھی کریں گے ، لیکن ان کو طاغوت قرار دینے کا کوئی جواز ہمارے پاس نہیں ۔

یہاں یہ بھی سمجھ لیجیے کہ دنیا اگر اسلامی قوانین کے علاوہ دیگر قوانین کو نافذ کیے ہوئے ہے تو اس لیے کہ وہ انہیں درست سمجھتی ہے ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم علمی اور عقلی طور پر ثابت کریں کہ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شریعت ایک بہتر قانون ہے ۔جو لوگ اسلام ہی کو نہیں مانتے یا انہیں شریعت کے معقول اور قابل عمل ہونے پر اعتراض ہے ، ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی قانون نافذ کریں گے ، ایک غیر معقول رویہ ہے ۔آپ غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی ان کا کیس لاعلمی کا کیس ہو گا ، بغاوت کا نہیں ۔طاغوت کا اطلاق حق کے واضح ہوجانے کے بعد شعوری طور پر کی جانے والی بغاوت پر ہوتا ہے ، غلط فہمیوں اور لاعلمیوں پر نہیں ۔

اس حوالے سے زیادہ ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ دین حق کی دعوت لوگوں تک پہنچانے پر توجہ دیں ، اس کی حقانیت اور استدلال کو لوگوں پر واضح کریں اورعلم وعقل کے میدان میں اس کی برتری قائم کریں ۔یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر معاملات میں بہتری آئے گی۔

Rehan Ahmed Yusufi