Search

تقدیر اور قسمت

سوال:

جواب:

تقدیر اور قسمت یعنی fate اورdestiny ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم کے مطابق تقدیر اللہ تعالیٰ کے اس اندازے یا منصوبے کا نام ہے جس کے تحت اس نے اس کائنات کو بنایا ہے ۔ یہ اندازہ کیا ہوتا ہے اسے یوں سمجھیں کہ گاڑ ی یا کار زمین پر چلنے کے لیے بنائی جاتی ہے ، جبکہ جہاز ہوامیں اور کشتی پانی پر چلنے کے لیے بنائی جاتی ہے ۔ان تینوں میں وہ تمام ضروری چیزیں مہیا کی جاتی ہیں جو بالترتیب زمین، ہوا اور پانی میں ان کا چلنا یقینی بناتی ہیں۔ اسی طرح کائنات کی ہر شے اور پوری کائنات جس مقصد کے لیے بنی ہے اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس شے کی تخلیق کرتے وقت پورا لحاظ کیا ہے اور اسی اعتبار سے اس کا ایک اندازہ مقرر فرمادیا ہے ، جس کی خلاف ورزی کوئی چیز کبھی نہیں کرسکتی ۔ پوری کائنات اور اس کی ہر شے تقدیر ، اندازے اور منصوبہ بندی کے اسی اصول پر بنی ہے ، اس بات کو قرآن کریم میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے :

’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)

’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی ہے۔‘‘ (یس36: 38)

’’پس ان کے سات آسمان ہونے کافیصلہ فرمایادودنوں میں ۔اورہرآسمان میں اس کے متعلقہ فرائض وحی کر دیے ۔اورہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سنوارا اوراس کواچھی طرح محفوظ کیا۔یہ خدائے عزیز و علیم کی منصوبہ بندی ہے ۔‘‘ ، (فصلت41: 12 )

’’(اس رب کی پاکی بیان کرو ) اورجس نے (ہرچیزکے لیے )اندازہ ٹھیرایا، پھر(اس کے مطابق چلنے کی )راہ دکھائی۔ ‘‘ ، (اعلی87: 3)

’’ہم نے ہرچیزایک اندازے کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)

علم، حکمت اور قدرت کی صفات پر مبنی اللہ تعالیٰ کی یہی وہ تقدیر ہے ، جسے آج کل کی زبان میں ہم منصوبہ بندی (planning) کہہ سکتے ہیں ۔اس کی بنیاد پر پوری کائنات ایک ترتیب اور تنظیم کے ساتھ چلتی ہے اور اسی بنا پر انسانوں کے لیے اس دنیا میں جینا ممکن ہے ۔ یہ نہ ہو تو زندگی نہ وجود میں آ سکتی ہے اور نہ برقرار رہ سکتی ہے ۔

تقدیر کا یہی اصول کائنات کی دیگر چیزوں کی طرح انسانوں پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ایک انسان کو کن والدین کے ہاں پیدا ہونا ہے ؟ مردو عورت میں سے کیا روپ اختیار کرنا ہے ؟ اس کی جائے پیدایش، ، قوم اور نسل کیا ہو گی؟ اس کی شکل و صورت کیسی ہو گی؟ ذہانت اور صلاحیت کا معاملہ کیا ہو گا وغیرہ، یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم، حکمت اور قدرت کے تحت طے ہیں ۔اسی تقدیر کے تحت یہ بات بھی متعین ہے کہ انسان کے ہر عمل کا ایک ردعمل ہو گا۔ وہ زہر کھائے گا تو مرجائے گا اور غذا لے گا تو صحت اور طاقت حاصل کرے گا۔آگ میں ہاتھ ڈالے گا تو ہاتھ جل جائے گاور اگر اسی آگ پر کھانا پکائے گاتو وہ قابل ہضم خوراک میں بدل جائے گا۔اس اصول پر وہ اپنی زندگی کو بہتر بھی بنا سکتا ہے اور اپنے حالات کو بدتر بھی کرسکتا ہے ۔

اس تفصیل سے یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ تقدیر یا قسمت کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ کریں اور جو کچھ مقدر ہے وہ انہیں ملتا رہے گا، یہ تصور درست نہیں ۔ انسان کو جو کچھ ملنا ہے اور جتنا کچھ ملتا ہے وہ بلاشبہ طے ہے ، مگر ساتھ میں کاتب تقدیر نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ انسان جو بھی کرے گا اسے اسی حساب سے دیا جائے گا۔تاہم انسان سے متعلق ایک دوسری حقیقت یہ ہے کہ اسے اس دنیا میں آزمایش کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔یہ آزمایش دواجزا پر مبنی ہے ۔ ایک یہ کہ انسان کو اچھے برے حالات سے آزمایا جائے ۔ دوسرا یہ کہ ان حالات میں دیکھا جائے کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’ہرجان کوموت کاذائقہ چکھنا ہے ۔اورہم تم لوگوں کودکھ اورسکھ دونوں سے آزما رہے ہیں ، پرکھنے کے لیے ۔اور ہماری ہی طرف تمھاری واپسی ہونی ہے ۔‘‘ ، (انبیاء21: 35)

’’بڑ ی عظیم اوربافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں (اس کائنات کی )بادشاہی ہے اوروہ ہرچیزپرقادرہے ۔جس نے پیداکیا ہے موت اورزندگی کوتاکہ تمھارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والابنتا ہے ۔اور وہ غالب بھی ہے اورمغفرت فرمانے والا بھی۔‘‘ ، (ملک67: 1۔2)

اس آزمایش کے پہلے جز کو وجودمیں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ انسان کو اچھے برے حالات سے گزارتے ہیں ۔چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی تمام تر کوشش کے باجود بعض مسائل اور حادثات کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر اس کی معمولی سی کوشش یا کم صلاحیت کے باجود اسے بہت زیادہ مل جاتا ہے ۔یہ نعمتیں اور مصائب انسان کے امتحان کا وہ پرچہ ہیں جسے خالق کائنات نے خود ترتیب دیا ہے ۔اس بات کو قرآن کریم میں ایسے بیان کیا گیا ہے :

’’اورتمھیں کوئی مصیبت بھی نہیں پہنچتی ہے ۔نہ زمینی پیداوارمیں اورنہ تمھارے اپنے نفوس کے اندر۔(اور اسی طرح کوئی نعمت بھی )مگریہ کہ وہ لکھی ہوئی ہے ایک کتاب میں اس سے پہلے سے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں ۔اوریہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے ۔(یہ بات تمھیں اس لیے بتائی جا رہی ہے )کہ جو چیز جاتی رہے اس پرغم نہ کرواورنہ اس چیزپراتراؤجواس نے تمھیں بخشی ہے ۔اور(یادرکھوکہ ) اللہ اکڑنے والوں اورفخرکرنے والوں کو پسندنہیں کرتا۔‘‘ ، (حدید57: 22۔23)

یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت، مشیت اور اذن کے تحت ہوتا ہے اور اسے انسان کو اپنی تقدیر کا حصہ سمجھ کر قبول کرنا چاہیے ۔ جو بدل سکتا ہے اسے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جو نہ بدلا جا سکے اس کے لیے صبر و شکر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ دنیا اصل میں پانے یا کھونے کی جگہ نہیں ، بلکہ امتحان کی جگہ ہے ۔ یہاں ہر طرح کے حالات میں دراصل اس کے رویے ، سوچ، نیت ، محرکات اور عمل کو پرکھا جاتا ہے ۔اس معاملے میں یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ اچھے برے اعمال جن پر انسان کی آخرت کا انحصار ہے ، ان کو کرنے میں انسان بالکل آزاد ہے ۔ یہاں تک کہ اگر انسان حالات کے جبر کی بنا پر ان اعمال کو سرانجام نہ دے سکے تو محض عزم و ارادہ کرنے پر بھی اس کا اجر یا سزالکھ دی جاتی ہے ۔ جیسے انسان اگر حج کا پختہ عزم کر لے اور کسی سبب سے حج پر نہ جا سکے تو بہرحال اسے اس عظیم عبادت کا اجر مل جائے گا۔

آپ کے سوال سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ آپ انسان کے اخلاقی اعمال کو بھی تقدیر سے متعلق مانتے ہیں اور یہ خیال فرماتے ہیں کہ انہیں بھی اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں ۔ قرآن اس طرح کی کوئی بات نہیں کہتا۔انسان کی تقدیر سے مراد اس کے ساتھ پیش آنے والے اچھے برے حالات ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اچھے برے اعمال انسان اپنی مرضی اور ادارے سے کرتا ہے ۔یہ پہلے سے نہیں لکھے ہوتے ، بلکہ قرآن کریم کے مطابق یہ اس وقت لکھے جاتے ہیں جب انسان ان کو کرتا ہے ۔

’’ہر گز نہیں ! بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہوحالانکہ تم پر یقینا نگران مامور ہیں ۔عالی قدر لکھنے والے ۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔‘‘ ، (انفطار82: 9۔12)

تاہم ایک اور چیز ہے جو تقدیر سے الگ ایک جدا معاملہ ہے ۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت صاحب علم ہونا بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ زمان و مکان (Time and Space) کی ہر پابندی سے بلند ہیں اس لیے ان کا علم بھی ایسی پابندیوں سے بلند ہے ۔ جس طرح وہ بیک وقت یہ جان سکتے اور جانتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان میں کیا ہورہا ہے ، ایک بند کمرے کے اندر اور باہر کیا ہورہا ہے اسی طرح وہ یہ بھی بیک وقت جانتے ہیں کہ ماضی، حال اور مستقبل میں کیا ہو گا۔لیکن معاملہ یوں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جاننے کی وجہ سے ہم کوئی کام کرتے ہیں ، بلکہ ہم ایک کام اپنی مرضی اور مکمل اختیار سے کرتے ہیں ، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کی بنا پر اس کے علم میں پہلے ہی سے ہوتا ہے ۔ اس کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ ٹی وی کا کوئی پروگرام اگر دو دفعہ نشر ہوتا ہے تو جو شخص اسے پہلی دفعہ دیکھ لے وہ دوسری دفعہ نشر ہوتے وقت یہ بتا سکتا ہے کہ انجام کیا ہو گا۔ لیکن اس کے بتانے سے وہ انجام رونما نہیں ہوتا ، بلکہ پہلے سے دیکھ لینے کی بنا پر اسے انجام کا علم ہوجاتا ہے ۔ یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا ہے کہ اسے ہر چیز کا پہلے سے علم ہوتا ہے ، مگر وہ چیز اصلاً اس کے علم کی بنا پر واقع نہیں ہوتی۔

Rehan Ahmed Yusufi