Search

تنخواہ اور بچت پر زکوٰۃ

سوال:

جواب:

جی ہاں آپ کو بچائے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپے پر بھی اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دینی ہو گی۔ اس بات کو سمجھ لیجیے کہ جس طرح ایک شخص فصل اگاتا اور کٹائی کے موقع پر اس پر دس فیصد زکوٰۃ یعنی عشر ادا کرتا ہے اور سال کے آخر میں اپنی بچت پر بھی زکوٰۃ ادا کرتا ہے ، اسی طرح تنخواہ پر زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد سال کے آخر میں اگر رقم بچ رہی ہے تو اس پر مال کی زکوٰۃ عائد ہو گی۔ جاوید صاحب نے صرف یہ کیا ہے کہ تنخواہ کا الحاق پیدا وار سے کر دیا ہے ۔چنانچہ تنخواہ پر آپ اس وجہ سے زکوٰۃ دیتے ہیں کہ وہ پیداوار ہے اور سال کے آخر میں آپ جو زکوٰۃ دیتے ہیں وہ مال یا بچت کی زکوٰۃ ہوتی ہے ۔تاہم یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جاوید صاحب کے نزدیک حکومت زکوٰۃ کے علاوہ لوگوں سے کوئی اور رقم بطور ٹیکس نہیں لے سکتی، چنانچہ جو ٹیکس آپ ادا کرتے ہیں ، اسے اپنی زکوٰۃ سے منہا کرسکتے ہیں ۔

یہ تو قانون کا بیان ہو گیا تاہم یاد رکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ زکوٰۃ اور انفاق کی رقم بظاہر آپ کے مال سے کم ہوکر دوسروں کو جاتی ہے ، مگر درحقیقت یہی وہ رقم ہے جو آپ کے پاس بچتی ہے ۔ آ پ کا انفاق ہی وہ چیز ہے جو کئی گنا بڑ ھا چڑ ھا کر آپ کو لوٹا دیا جائے گا۔باقی سب تو ختم اور فنا ہوجانا ہے ۔

Rehan Ahmed Yusufi