Search

تصوف اور اسلام

سوال:

جواب:

تصوف کا علمی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کے تین اجز ہیں:

  1. مذہبی اعتقدات یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر
  2. اوراد و اشغال اور چلوں اور مراقبوں پر مشتمل بیان کردہ اعمال و وظائف
  3. عام اخلاقی رویوں میں اچھے اخلاق اپنانے اور رزائل سے پرہیز کی تلقین

ہمارے نزدیک ابتدائی دو چیزوں میں تصوف کا نقطۂ نظر قرآن و سنت کی تعلیمات سے بہت کچھ مختلف اور مبالغہ پر مبنی ہے۔ اس لیے ہم اسے غلط کہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے تفصیلی تجزیے کے لیے آپ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تصنیف ’برھان‘ کے مضمون ’اسلام اور تصوف ‘کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ اس مضمون میں انہوں نے تصوف کے ائمہ کی کتابوں سے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ان کا نقطۂ نظر قرآن و سنت سے کتنا مختلف ہے ۔

آپ نے یہ بات درست نہیں فرمائی کہ ہماری تاریخ کے سارے مفسر اورعالم صوفی تھے ۔ہمارے ہاں تصوف کا غلبہ قرون اولیٰ کے بعد ہوا ہے ۔باقی جن بزرگوں کے نام آپ نے لیے ، وہ سر آنکھوں پر مگر کیا کیجیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ مقام نہیں دیا کہ دین میں اس کی بات حجت مانی جائے ۔آپ تصوف کو دین قرار دینا چاہتے ہیں تو حضور کی نسبت سے کچھ لائیے ۔حضور کے سوا کسی اور کی نسبت سے کوئی چیز دین نہیں بنتی۔

Rehan Ahmed Yusufi