Search

زائرِ مکہ اور احرام

سوال:

جواب:

آپ نے جو مسئلہ بیان کیا ہے اس میں اہل علم مختلف الرائے ہیں۔ اس اختلاف کو ابن رشد اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’کسی نے حج وعمرہ کا ارادہ نہیں کیا ہے اوران میقاتوں (وہ مقامات جہاں سے حجاج کے لیے احرام باندھنا لازم ہے )سے گزرگیا ہے توایک گروہ کاقول ہے کہ جوشخص بھی ان میقاتوں سے گزرے اس پر احرام باندھنالازم ہے۔ سوائے اس شخص کے جو بار بارگزرے جیسے لکڑ ی چننے والے وغیرہ۔ یہی قول امام مالک کا ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ حج اورعمرہ کا ارادہ رکھنے والے کے سوا کسی پراحرام باندھناواجب نہیں ہے۔ یہ ان سب لوگوں کے لیے ہے جواہل مکہ میں سے نہیں ہیں۔ اہل مکہ حج یاعمرہ کا احرام باندھیں گے اورحرم کے باہرمقام حِلّ تک جائیں گے۔‘‘ ، (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد 334)

ہماری رائے دوسرے گروہ کے مطابق ہے۔ یعنی آپ چونکہ اصلاً عمرہ کے لیے نہیں ، بلکہ اپنے والدین سے ملنے جاتے ہیں اس لیے آ پ بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جا سکتے ہیں اور وہاں سے جیسا کہ ابن رشد نے بیان کیا ہے حرم سے باہر مقام حِلّ تک جا کر کسی بھی جگہ جیسے مسجد عائشہ سے احرام پہن کر عمرہ ادا کرسکتے ہیں۔

Rehan Ahmed Yusufi