Search

زکوٰۃ اور یتیم بچے

سوال:

جواب:

1- زکوٰۃ کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں بیان کی ہیں جو اس طرح ہیں :

’’صدقات توبس فقرا ، مسکینوں ، عاملین صدقات اورتالیف قلوب کے سزاواروں کے لیے ہیں اوراس لیے کے یہ گردنوں کے چھڑ انے ، تاوان زدوں کے سنبھالنے ، اللہ کی راہ اورمسافروں کی امدادمیں خرچ کیے جائیں ۔یہ اللہ کامقررکردہ فریضہ ہے ۔اوراللہ علم والا اورحکمت والا ہے ۔‘‘، (التوبہ9: 60)

اس فہرست میں ابتدائی دو نام فقرا و مساکین کے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محتاجی اور ناداری کے ہاتھوں غربت و تنگ دستی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ آپ نے اپنی سالی کا جو معاملہ بیان کیا ہے ، اس کے بعد وہ اسی زمرے میں آتی ہیں۔ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے سہارا خاتون ہیں جن کی مدد کرنا بہت ثواب کی بات ہے ۔ آپ انہیں بلا جھجک زکوٰۃ کی رقم دیجیے اور اس کے علاوہ بھی جتنی ممکن ہو ان کی مدد کیجیے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا۔

2- مذکورہ بچے یتیم نہیں ، بلکہ بے سہارا کہلائیں گے۔ ان کی ذمہ داری اصلا ً ان کے باپ پر ہے۔ لیکن وہ اگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو پھر آپ جیسے قریبی رشتے دار ہی ان بچوں کے سر پر ہاتھ رکھیں گے۔ اس حیثیت میں ان میں اور یتیم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ ان کی دل کھول کر مدد کیجیے ، اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر دے گا۔

Rehan Ahmed Yusufi