حضرت ابراہیم کا صحیح نام

سوال:

السلام علیکم جناب غامدی صاحب

ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے کہیں سے نہیں مل رہا – امید ہے آپ کے پاس سے مل جائے گا-

حضرت ابراہیم کو ان کے والد یا اس وقت کے لوگ 'ابراہیم ' (Ibrahim)بلاتے تھے یا 'ابراہام' (Abraham)؟ اور ابراہیم سے ابراہام ہونے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا –


جواب:

و علیکم السلام

آپ کے پہلے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ اس کا جواب صرف قدیم صحائف کی روشنی میں دیا جا سکتا ہے کیوں کہ قرآن مجید میں اس کا کوئی ذکر نہیں- بائبل کی کتاب پیدائش کے مطابق ان کا نام پہلے 'ابرام' (Abram) تھا- ظاہر ہے کہ یہ نام ان کے اپنے تمدن اور ان کی اپنی زبان کے لحاظ سے رکھا گیا ہوگا- جب الله تعالی نے ان کا انتخاب فرمایا تب ان کا نام تبدیل کر دیا اور 'ابراھام' (Abrahaam) رکھا-کتاب پیدائش باب 17 میں اس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے :

" 3 اُس کے فوراً بعد اَبرام نے خدا کو سجدہ کیا۔4 تب خدا نے اُس سے کہا ، “میں نے تجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ یہ ہے : تو بہت ساری قوموں کا باپ ہو گا۔5 تیرا نا م اَبرام کے بجائے ابراھام رکھتا ہوں۔ اب اِس کے بعد تجھے ابراھام ہی پُکا ریں گے۔ ا سلئے کہ اِس کے بعد کئی نسلوں کے لئے تیری حیثیت جدِّ اعلیٰ کی ہو گی۔6 میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا۔ قومیں تیری نسل سے ہوں گی اور بادشاہ تیری اولاد میں سے برپا ہوں گے ۔" (پیدائش باب 17 – آیات 3 تا6)

مذکورہ عبارت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے نام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کئی نسلوں کے لیے ان کی حیثیت جدِّ اعلیٰ کی ہوگی - اس بنیاد پر کئی اھل علم یہ راۓ رکھتے ہیں کہ لفظ 'ابراہیم ' یا 'ابراھام ' کے معنی ' متعدد نسلوں کے باپ' یا 'متعدد اقوام کے باپ' کے ہیں –

جہاں تک 'ابراھیم' اور 'ابراھام' میں فرق کا سوال ہے تو یہ محض تلفظ کا فرق ہے جو زبانوں کے درمیان واقع ہوا کرتا ہے- اس میں اول الذکر تلفظ عربی کا ہے اور ثانی الذکر تلفظ عبرانی کا ہے- یہ ایسے ہی ہے جیسے عربی میں ہم سلام (Salaam)کہتے ہیں اور عبرانی میں شلوم (Shalom) کہتے ہیں-

answered by: Mushafiq Sultan

About the Author

Mushafiq Sultan


Mushafiq Sultan, born in Kashmir (Indian Administered) in 1988, has been studying world religions from his school days. In 2009 Mushafiq came across the works of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and since then has been highly influenced by his thought. He has an exceptional interest in world religions, their philosophies and their mutual relations. He formally joined Al-Mawrid in 2016 as Assistant Fellow (Honorary). Presently, he is in charge of Al-Mawrid’s query service. In 2016, he published his first book ‘Muhammad (sws) in the Bible- An Exposition on Isaiah 42’. He has written articles on Islam, Christianity and Hinduism. He has also translated several articles of Javed Ahmad Ghamidi into Hindi.