خواتین کی تعلیم

سوال:

کیا اسلام نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا ہے؟


جواب:

اسلام نے خواتین کو اس طرح کی کسی چیز سے نہیں روکا۔ اسلام تو کہتا ہے کہ علم حاصل کرنا تم میں سے ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یعنی دین کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک ذمہ داری بنا دی گئی۔ پھر اس کے بعد دنیوی اور طبعی علوم ہیں، یہ ہماری روز مرہ کی ضرورت ہیں۔ ان کے حصول کے بغیر آپ دنیا میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید نے اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے کہا کہ 'أعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل' (الانفال ٨: ٦٠) یعنی اپنی طاقت منظم کر کے رکھو اور گھوڑے تیار کر کے رکھو۔ اور یہ سب کچھ اسی وقت ہو گا جب آپ علوم و فنون سے دل چسپی رکھتے ہوں گے۔ مسلمانوں نے تو ہمیشہ تعلیم کی ترغیب دی ہے۔ تعلیمی ادارے قائم کیے، تعلیم کی روایت قائم کی۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے لحاظ سے ہوا۔ قرآن مجید میں علم، عقل، تدبر اور تفکر پر بہت زور دیا گیا ہے۔ لوگ جہاد کا ذکر کرتے ہیں۔ دور جدید میں جہاد اب افرادی قوت سے نہیں بلکہ علم سے ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے غیر معمولی ترقی کر لی ہے۔ آپ اپنی قوم کے لیے اس کا دروازہ بند کر لیں گے تو آپ دنیا میں اپنے آپ کو باقی نہیں رکھ سکیں گے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author