آلِ ابراہیم اور باقی اقوام

سوال:

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ انھیں براہ راست یا بالواسطہ خدا کی طرف سے رہنمائی دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی اقوام جیسے آسٹریلوی اور امریکن کا کیا معاملہ ہے۔ وہ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اسلام کی کیا موافقت ہے، ہم تو اس علاقے سے ہزاروں میل دور آباد ہیں؟


جواب:

استاد محترم کی تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچانے کے دو دور ہیں: ایک دور وہ ہے جب ہر قوم میں خدا کے رسول مبعوث کیے گئے اور ان تک خدا کا پیغام پہنچایا گیا۔ دوسرا دور وہ ہے جب ایک قوم کو منتخب کیا گیا کہ وہ خدا کے دین کی حامل بنے اور خدا کے دین کو دوسری اقوام تک پہنچائے۔ یہ انتخاب آلِ ابراہیم کا تھا۔ چنانچہ اس کی ایک شاخ نے پہلے یہ کام کیا اور حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کا زمانہ ان کے عروج کا دور ہے۔ جب ان کی قوم عیوب اور کوتاہیوں کے باعث اپنے فرض سے منحرف ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے آلِ ابراہیم کی دوسری شاخ میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر کے مقام پر فائز کیا اور اس شاخ نے ایمان قبول کیا اور اپنے زمانے کے تمام متمدن معاشروں تک خدا کی بات پہنچا دی۔
دنیا میں کچھ لوگ تو ایسے ہو سکتے ہیں کہ انھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے اور خدا کی ایک کتاب کے حامل ہونے کی خبر نہ ہو، لیکن دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں یہ بات معلوم نہ ہوگئی ہو۔ مزید براں موجودہ زمانے میں پریس اور میڈیا کے پھیلاؤ کے باعث اسلام کے آخری حق ہونے کا دعویٰ مزید تیزی اورپھیلاؤکے ساتھ ان اقوام کو پہنچ رہا ہے۔
آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اسلام کی تعلیمات اور ان اقوام کے کلچر کے فرق کے باعث اسلام کے قابل قبول ہونے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے اپنے پھیلاؤ میں اس وسعت کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ نئے کلچر میں معمولی ترمیم واصلاح کرکے اس قوم کے لیے پہلے سے بہتر کلچر تخلیق کرنے میں معاون ہو۔ مراد یہ ہے کہ اسلام نے کہیں بھی عربی کلچر کی مخصوصات کو نافذ نہیں کیا۔ پہلی اقوام اور مغربی اقوام میں ایک فرق ضرور ہے۔ ایشیا اور افریقہ کی تمام اقوام اقدار کے بنیادی تصورات میں ملتی جلتی تھیں، لیکن مغرب کی موجودہ اقدار اور ان اقدار میں بُعد بہت زیادہ ہے، لیکن یہ بُعد فرق کی نوعیت کا نہیں ہے ، بلکہ غلط اور صحیح کی نوعیت کا ہے، اس لیے ہم اس میں اہل مغرب کو اپنے اندر ضروری تبدیلی کرنے پر اصرار کریں گے، ان میں سے جس کو بھی اسلام کی حقانیت واضح ہوئی ہے، اس نے کلچر کے اس فرق کی قباحت کو بھی سمجھا ہے اور اسے اسلامی اقدار کو اختیار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔ البتہ لباس، رہن سہن، طور اطوار ، سماجی رسوم کا وہ فرق جو محض تنوع اور جغرافی فرق کے باعث پیدا ہو جاتا ہے ،اسلام کو اس میں تبدیلی کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں ہے، اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سعید روحوں کو اسے اپنانے میں کوئی مشکل پیش آسکتی ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ خدا کا اصل دین ان لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کے حق ہونے اور آخری حجت ہونے کے پہلو کو واضح کیا جائے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author