آیت وضو کا صحیح مفہوم

سوال:

آیت وضو میں بظاہر سر اور پاؤں کے مسح کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ لفظ "ارجل "پر نصب ہے لہذا اسے فاغسلوا سے متعلق سمجھا جائے۔ کیا یہ بات درست ہے اور اس کی کیا دلیل ہے؟


جواب:

آپ کے سوال کے جواب میں میں غامدی صاحب کی کتاب میزان سے متعلقہ حصہ نقل کرتا ہوں جس میں پوری وضاحت موجود ہے۔

"وضو کا طریقہ اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے منہ دھویا جائے ، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوئے جائیں ، پھر پورے سر کا مسح کیا جائے اور اِس کے بعد پاؤں دھو لیے جائیں۔ پورے سر کا مسح اِس لیے ضروری ہے کہ اِس حکم کے لیے آیت میں `وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْ سِکُمْ` کے الفاظ آئے ہیں اور عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ ` ب` اِس طرح کے مواقع میں احاطے پر دلیل ہوتی ہے۔ اِسی طرح پاؤں کا حکم ، اگرچہ بظاہر خیال ہوتا ہے کہ `وَامْسَحُوْا` کے تحت ہے ، لیکن `اَرْجُلَکُمْ` منصوب ہے اور اِس کے بعد `اِلَی الْکَعْبَيْنِ` کے الفاظ ہیں جو پوری قطعیت کے ساتھ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ اِس کا عطف `اَيْدِيَکُمْ` پر ہے۔ اِس لیے کہ یہ اگر `بِرُءُ وْسِکُمْ` پر ہوتا تو اِس کے ساتھ `اِلَی الْکَعْبَيْنِ` کی قید غیر ضروری تھی۔ تیمم میں، دیکھ لیجیے کہ جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے، وہاں `اِلَی الْمَرَافِقِ` کی قید اِسی بنا پر ختم کر دی ہے۔ چنانچہ پاؤں لازماً دھوئے جائیں گے۔ آیت میں اُن کا ذکر محض اِس وجہ سے موخر کر دیا گیا ہے کہ وضو میں اعضا کی ترتیب لوگوں پر واضح رہے۔”(میزان، قانون عبادات)

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author