اچھے اعمال کا برا صلہ

سوال:

میں ایک ڈاکٹر ہوں اور 1995 سے انگلینڈ میں رہتا ہوں۔ میری عمر 48 سال ہے اور میرے دو بچے ہیں۔ میرے والدین کراچی میں بھائی کے پاس رہتے ہیں اور وہی ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ دسمبر 2007 میں بھائی حج کرنے جانے لگا تو اس نے مجھے کراچی آنے اور والدین کے پاس رک کر ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کہا۔ میں اپنے بیوی بچوں کو انگلینڈ ہی میں چھوڑ کر کراچی والدین کے پاس چلا آیا۔ فارغ ہونے کے بعد جب میں واپس آ رہا تھا تو مجھے دبئی ایئر پورٹ پر ہارٹ اٹیک آیا۔ میرا اپنا بھائی حج کے لیے گیا تھا اور اس نے وہاں میری صحت اور آسایش کے لیے دعائیں کی تھیں اور میں بھی والدین ہی کی خدمت کے نیک خیال سے کراچی گیا تھا لیکن مجھے یہ ٹریجڈی پیش آ گئی۔ آپ اسے کس طرح دیکھیں گے؟


جواب:

آپ کے سوال میں یہ غلط فہمی پوشیدہ ہے کہ آپ کو ہونے والا ہارٹ اٹیک آپ کی ایک نیکی کا بدلہ تھا۔ ہم آپ سے یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے بچے آپ کی ہدایت کے مطابق کوئی اچھا کام کریں تو کیا آپ انھیں سزا دیں گے؟ جب آپ ایک عام انسان ہوکر یہ نہیں کرسکتے تو پروردگار عالم جو سب سے بڑ ھ کر رحم کرنے والا ہے ، وہ اپنے بندوں کی نیکی کا بدلہ اس طرح کیوں دے گا کہ والدین کی خدمت کا بدلہ ہارٹ اٹیک کی شکل میں دے؟ اس لیے آپ پورا اطمینان رکھیں کہ آپ کو کوئی سزا نہیں ملی اورآپ کو آپ کی نیکی کا بہترین بدلہ مل کر رہے گا۔ رہا یہ سوال کہ آپ کو ہارٹ اٹیک کیوں ہوا تو ظاہر ہے کہ بحیثیت ایک ڈاکٹر اس کی وجوہات کو آپ ہم سے زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں ۔

آپ کے سوال میں ایک غلط فہمی اور مضمر ہے کہ جب کبھی ایک انسان کوئی نیکی کا کام کرے یا اس کے حق میں کوئی دعا کی جائے تو لازماً اس کے معاملات بہترہونے چاہییں۔ اس کی صحت اور مال کو کئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ بات بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے آزمایش کے اصول پر بنائی ہے ، سزا اور جزا کے اصول پر نہیں۔ یہاں اگر ہرنیکی پر فوری جزا اورہر بدی پر سزا ملنے لگے تو بتائیے پھر کون اللہ کا انکار کرے گا اور کون اس کی نافرمانی کرے گا؟ اس دنیا میں صالحین پر بھی تکالیف آتی ہیں اور بدکاروں کو بارہا نعمتیں مل جاتی ہیں۔ یہ آزمایش کے اُس قانون کے تحت ہوتا ہے جس میں انسان کو اچھے برے حالات میں بن دیکھے رب کو ماننا اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔ جو لوگ یہ کر لیتے ہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ کل قیامت کے دن انھیں دیا جائے گا۔

رہی یہ دنیا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ صالحین کو تنہا اور بے آسرا نہیں چھوڑ تے۔ اس دنیا کی سب سے بڑ ی نعمت یعنی دل کا اطمینان انھیں ہمیشہ حاصل رہتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ان کی نیکیاں خارج کی دنیا میں بھی ان کے لیے بھلائی کا سبب بن جاتی ہیں ۔ مثلاً یہی والدین کی خدمت وہ نیکی ہے جس کا بدلہ انسان اکثر اس دنیا میں نیک اولاد کی شکل میں پا لیتا ہے۔ آپ بھی یقین رکھیے کہ اگر آپ والدین کے حقوق پورے کر رہے ہیں اور اولاد کی اچھی تربیت کر رہے ہیں تو ان شاء اللہ آپ کی اولاد بڑ ھاپے میں آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے گی۔

ہم پر مشکلات کیوں آتی ہیں؟ یہ ایک اہم اور تفصیلی موضوع ہے جس کا احاطہ اس مختصر جواب میں کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع پر ہمارے ادارے کے ایک ا سکالر جناب ساجد حمید نے اسی نام سے ایک تفصیلی کتاب تصنیف کی ہے۔ موقع ہو تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ امید ہے کہ یہ کتاب آپ کے کنفیوژن کو دور کرنے کا سبب بن جائے گی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author