اہل علم کا باہمی اختلاف اور ہمارا رویہ

سوال:

آپ کے مدرسۂ فکر (School of Thought) کے بارے میں مجھے کچھ شکوک اور شبہات پیش آ رہے ہیں ، کیونکہ آپ لوگ اُن بہت سی چیزوں کا انکار کرتے یا اُنہیں غیر دینی قرار دیتے ہیں جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں۔ ٹی وی پر آنے والے پروگرامز میں آپ کے حلقے کے ا سکالرز کو سننے کے بعد جب میں دوسری اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں تو وہ مجھے مشکوک لگتی ہیں کیونکہ آپ لوگ بہت سی مستند اور قدیم باتوں سے اختلاف و انکار کرتے ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں وضاحت مطلوب ہے؟


جواب:

آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قبل پیدا ہونے والے سوالات کے بارے میں ہم سے براہِ راست دریافت کر لیا۔یہ ایک بہت عمدہ اخلاقی رویہ ہے جو آج کل ناپید ہے۔ وگرنہ آج کل مذہب کے نام پر کھڑ ا ہوا ہر آدمی بلا تصدیق باتوں پر یقین کرنا اور ہر سنی سنائی بات کو بلا تحقیق آگے بڑھانا اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔ جبکہ یہ رویہ دین کی مسلمہ تعلیمات کی رو سے ایک بدترین اخلاقی رویہ ہے ۔ہم کوشش کریں گے کہ آپ کے سوال کے جواب میں اپنا نقطۂ نظر آپ پر واضح کرسکیں ۔

اسلام کے نام پر ہمارے معاشرے میں دو طرح کی چیزیں رائج ہیں ۔ایک وہ دین جو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا تھا۔اس میں وہ تمام عقائد، عبادات، اخلاقیات اور قوانین شامل ہیں جو قرآن و سنت میں پائے جاتے ہیں ۔ معاشرے میں رائج دوسری چیز بعد میں آنے والے اہل علم اورفقہا کے اجتہادات اور ان کا فہمِ دین ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ عام طور پر ہمارے مروجہ مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق اسلامی حدود و تعزیرات میں قتلِ عمد کی سزا موت مقرر کی گئی ہے ۔اسی حدود کے قانون کی ایک شق یہ ہے کہ قتل کے کسی کیس میں عورت کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔اس معاملے میں پہلی بات بلاشبہ ایک دینی حکم ہے جو قرآ ن کریم میں بیان ہوا ہے جبکہ دوسری بات نہ قرآن میں ہے ، نہ سنت میں اور نہ کسی حدیث میں ۔یہ دراصل ہمارے فقہا کی رائے ہے جو ایک دینی مسلمہ کے طور پر بیان کی جاتی ہے ۔ہمارانقطۂ نظر یہ ہے کہ دین تو بس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایت کا نام ہے ۔اس کے بعد ہر رائے کو ہم توجہ اور غور سے سنیں گے ، وہ ہمیں اگر دین کے تقاضوں کے مطابق اور ایک معقول بات محسوس ہوئی تو اسے سر آنکھوں پر رکھیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو احترام کے ساتھ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیں گے ۔ اس لیے کہ ہم پر ذمہ داری صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہے اور یہ کہ ہم ان کے ہر حکم کو حرفِ آخر سمجھیں ۔

یہی وہ چیز ہے جسے آپ صدیوں سے مانی ہوئی اور متفقہ چیزوں سے انکار قرار دے رہے ہیں ۔ہمارا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے کہ اختلاف صرف اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ نہیں ہو سکتا ۔ با قی ہر رائے کو دین، علم اور عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے گا۔اس لیے آپ کو گفتگو اس پر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم بعض چیزوں سے اختلاف کرتے ہیں ، بلکہ ساری گفتگو اس پر ہونی چاہیے کہ کیا اللہ اور اس کے رسول کے سوا دین کا کوئی تیسرا ماخذ بھی ہے ؟کیا ہمارے دین میں کسی فرد ، ادارے یا گروہ کو نبوت کا سا تقدس حاصل ہے ؟کیا ہمارے اسلاف کی ہر رائے ایک آسمانی فیصلہ ہے؟ کیا ہمارے اسلاف اور قدیم اہل علم نے یہ دعویٰ کبھی کیاکہ وہ معصوم عن الخطا ہیں اور ان کی ہر بات نبیوں کی طرح سچی ، حق پر مبنی اور کبھی نہ تبدیل ہونے والی ہوتی ہے ؟کیا صدیاں گزرجانے پر ہر بات مقدس اور آسمانی ہوجاتی ہے؟ یہ اگر آپ کی رائے ہے تو آئیے بیٹھ کر پہلے اس پر بات کرتے ہیں ۔

آخر میں تین گزارشات مزید عرض ہیں ۔ پہلی یہ کہ کسی شخص کواس بات پر متوحش نہیں ہونا چاہیے کہ اہل علم کسی علمی مسئلے پر آپس میں اختلاف کرتے ہیں ۔ آپ امت کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے ، شاید ہی کوئی مسئلہ ہو جس پر اہل علم کی ایک سے زائد آرا سامنے نہ آجائیں ۔ ہمارے ہاں عام لوگ تو کجا مدارس سے فارغ علمابھی اسلاف کے دینی کام پر براہِ راست نظر نہیں رکھتے ، ا س لیے وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں ۔کچھ اور نہیں تو ابن رشد کی کتاب بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد ہی کا مطالعہ کر لیں جس میں مختلف دینی امور کے بارے میں قدیم اہل علم کی آرا جمع کر دی گئی ہیں تو یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ آخرت میں انسان کی نجات جن چیزوں پر موقوف ہے اور جن عقائد و اعمال پر پورا دین منحصر ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم پر نہیں چھوڑ ے ، بلکہ اپنے رسول کے ذریعے سے خود بیان کر دیے ہیں اور قیامت تک ان کی حفاظت کا انتظام بھی کر دیا ہے ۔ اس لیے ان فقہی اختلافات سے کسی کی آخرت کو یا دین کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ ہمارے اساتذہ نے جن چیزوں میں قدیم اہل علم سے اختلاف کیا ہے وہ جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا ہے کہ بنیادی دینی تعلیمات میں نہیں ، بلکہ فروعی معاملات میں کیا ہے ، لیکن جتنے امور پر بھی اختلاف ہے، ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جن پر اسلاف میں بھی آپس میں اختلاف تھا۔ لوگ چونکہ صرف ایک ہی نقطۂ نظر سے واقف ہوتے ہیں اس لیے انہیں یہ بات بڑ ی عجیب لگتی ہے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author