اہلِ کتاب کا کھانا

سوال:

میرا نام سمرین ہے اور میں آسٹریلیا میں رہتی ہوں ۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ہم کسی بھی ریسٹورنٹ میں سے پکی ہوئی مرغی کھا سکتے ہیں ؟یہاں چونکہ بہت سے حلال ریسٹورنٹ نہیں ہیں اس لیے زیادہ تر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمیں مرغی ہی کھانی چاہیے کیونکہ یہ لوگ عیسائی ہیں لہٰذا یہ اگرچہ مرغی ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام نہ لیں پر کسی اور کا نام بھی نہ لیتے ہوں گے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟


جواب:

اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اہلِ کتاب کا کھانا اور ان کا ذبیحہ جائز قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’تمام پاکیزہ چیزیں اب تمھارے لیے حلال ٹھیرادی گئی ہیں ۔(چنانچہ)اہلِ کتاب کاکھاناتمھارے لیے حلال اورتمھاراکھانا ان کے لیے حلال ہے ۔‘‘ ، (المائدہ5 :5)

تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دسترخوان کی صرف وہ چیزیں مسلمانوں کے لیے جائز ہیں جو اسلامی تصور کے مطابق بھی جائز ہوں ۔ جیسے اگر کسی مسیحی نے اپنے دسترخوان پر سؤر کا گوشت بنا کر رکھا ہوا ہے تو اس آیت کی رو سے اس کو کھانا جائز نہیں ہو گا۔ٹھیک اسی طرح ذبیحے کے حلال ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ اس پر اللہ کا نام لیا جائے اور غیر اللہ کا نام نہ لیا جائے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’کہہ دو:میں تواس وحی میں جومیری طرف آئی ہے ، کسی کھانے والے پرکوئی چیزجسے وہ کھاتا ہے ، حرام نہیں پاتاسوائے اس کے کہ وہ مردار ہویابہایا ہواخون یاسؤرکاگوشت، اس لیے کہ یہ سب ناپاک ہیں یا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کے نام کے سواکسی اورکے نام کاذبیحہ۔ اس پربھی جومجبورہوجائے ، اس طرح کے نہ چاہنے والا ہو، نہ حدسے بڑ ھنے والا(تواس پرکوئی گناہ نہیں )۔اس لیے کہ اللہ، یقینابخشنے والا ہے ، وہ سراسر رحمت ہے ۔‘‘ ، (انعام 146 :6)

یہاں وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو آپ نے اٹھایا ہے کہ اگر ذبح کے وقت کسی کانام بھی نہ لیا جائے تو کیا تب اس کا کھانا جائز ہو گا۔ استاذ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب میزان کے باب خور و نوش میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے ۔وہ لکھتے ہیں :

چنانچہ قرآن مجید کی روشنی میں یہ چیز بالکل واضح ہے کہ اگر کسی جانور پر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے تب بھی اس کا کھانا جائز نہیں۔ آپ گوشت کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مچھلی وغیرہ استعمال کرسکتی ہیں ۔ یا پھر غیر مسلموں میں سے یہود وغیرہ اگر اسلامی شرائط کے مطابق اپنے جانور ذبح کرتے ہیں تو انہیں کھا سکتی ہیں ۔

"وہ ذبیحہ جس پرغیراللہ کانام تونہیں لیا گیا، لیکن اللہ کانام بھی نہیں لیا گیا، وہ بھی اسی کے تحت ہے۔ قرآن مجیدمیں اس کواسی طرح ’فسق‘قراردیا گیا ہے جس طرح ’وما اھل لغیراللہ بہ‘ (جس پر غیراللہ کانام پکارا گیا)کوقراردیا گیا ہے ۔سورۂانعام میں جانوروں سے متعلق اہل عرب کے بعض توہمات کی تردیدکرتے ہوئے فرمایا ہے :

’’اور تم اس جانورکونہ کھاؤجسے اللہ کانام لے کرذبح نہ کیا گیا ہو۔بے شک ، یہ فسق ہے ۔اوریہ شیاطین اپنے ساتھیوں کو القا کر رہے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔(اورتمھیں معلوم ہوناچاہیے کہ)تم لوگوں نے اگر ان کاکہاماناتوتم بھی مشرک ہوجاؤگے ۔ ‘‘ ، (انعام6: 121)

ذبیحہ اورصید(شکار) پراللہ کانام نہ لینا ایسافسق کیوں ہے کہ اس کے نتیجے میں جانور’وما اھل لغیراللہ بہ‘کے حکم میں داخل ہوجائے ؟ استاذامام اس کے وجوہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اول یہ کہ اللہ کے نام اوراس کی تکبیرکے بغیرجوکام بھی کیا جاتا ہے وہ، جیساکہ ہم آیت بسم اللہ کی تفسیرمیں واضح کر چکے ہیں ، برکت سے خالی ہوتا ہے ۔خداکی ہرنعمت سے ، خواہ وہ چھوٹی ہویابڑ ی، فائدہ اٹھاتے وقت ضروری ہے کہ اس پراس کانام لیا جائے تاکہ بندوں کی طرف سے اس کے انعام واحسان کا اعتراف واقرارہو۔اس اعتراف و اقرار کے بغیرکوئی شخص کسی چیز پر تصرف کرتا ہے تواس کایہ تصرف غاصبانہ ہے اورغصب سے کوئی حق قائم نہیں ہوتا ، بلکہ یہ جسارت اورڈھٹائی ہے جوخداکے ہاں مستوجب سزا ہے ۔

دوم یہ ہے کہ احترام جان کایہ تقاضہ ہے کہ کسی جانورکوذبح کرتے وقت اس پرخداکانام لیاجائے ۔جان کسی کی بھی ہو ، ایک محترم شے ہے ، اگرخدانے ہم کواجازت نہ دی ہوتی توہمارے لیے کسی جانورکی بھی جان لیناجائزنہ ہوتا۔یہ حق ہم کوصرف خداکے اذن سے حاصل ہوا ہے ۔اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ جس وقت ہم ان میں سے کسی کی جان لیں ، صرف خدا کے نام پرلیں ۔اگر ان پر خدا کانام نہ لیں یاخدا کے نام کے ساتھ کسی اور کانام لیں یاکسی غیراللہ کے نام پران کوذبح کر دیں تویہ ان کی جان کی بھی بے حرمتی ہے ساتھ ہی جان کے خالق کی بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام نے شرک کے ان تمام راستوں کو بند کر دینے کے لیے جانوروں کی جانوں پراللہ تعالیٰ کے نام کاقفل لگادیاجس کو خدا کے نام کی کنجی کے سواکسی اورکنجی سے کھولناحرام قراردے دیا گیا۔اگراس کنجی کے بغیرکسی اورکنجی سے اس کو کھولنے یا اس کوتوڑ نے کی کوشش کی گئی تویہ کام بھی ناجائز اورجس جانور پریہ ناجائزتصرف ہوا، وہ جانوربھی حرام۔‘‘ (تدبرقرآن 3/157) " (میزان ، ص 637۔639)

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author