اہل کتاب کا ذبیحہ

سوال:

قرآن مجید میں اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کیا آج کل کے اہل کتاب جو مشرکانہ عقائد رکھتے ہیں، ان کا ذبیحہ بھی مسلمانوں کے لیے جائز ہے؟


جواب:

اہل کتاب آج جس شرک میں مبتلا ہیں، اس میں وہ نزول قرآن کے زمانے میں بھی تھے۔ ارشاد باری ہے:

وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ نِابْنُ الله وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِيحُ ابْنُ الله ذٰلِکَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ. (توبہ9: 30)

''یہود نے کہا :عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور نصاریٰ نے کہا : مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ سب ان کے منہ کی باتیں ہیں۔''

اہل کتاب اپنے دین کو دین توحید ہی کی حیثیت سے پیش کرتے اور اپنے شرک کی توجیہ کرتے ہیں، لہٰذا قرآن نے انھیں عرب کے ان مشرکین کی صف میں کھڑا نہیں کیا جو دین توحید کے بجاے دین شرک کے علم بردار تھے۔
لہٰذا آج بھی اہل کتاب کا ذبیحہ کھانا صحیح ہو گا بشرطیکہ وہ ذبیحہ ہو۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author