اہل تشیع سے شادی اور طلاق

سوال:

میں بہت مشکل میں ہوں۔ میں اہل سنت میں سے ہوں اور میں نے اپنی مرضی سے شادی ایک اہل تشیع سے کی تھی۔ شادی کو سات سال ہو چکے ہیں۔ میرے شوہر نے ایک جھگڑے کے باعث مجھے اہل سنت کے طریقے پر کورٹ سے طلاق دے دی۔ میں نے اپنے مسلک کے مطابق یہ طلاق قبول بھی کر لی۔

بہت سے مفتی کہتے ہیں کہ شیعہ سنی شادی جائز ہی نہیں ہے۔ میری ایک بیٹی بھی ہے کیا وہ ناجائز ہے۔

میرے شوہر مجھے کہتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی کیونکہ میرے مسلک کے مطابق ایسے طلاق نہیں ہوتی۔ وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ اہل تشیع ائمہ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی۔

میرا مسئلہ حل کیجیے اگر میں اپنے شوہر کے پاس واپس جانا چاہوں تو مجھے کیا کرنا ہو گا؟ حلالہ کرنا چاہوں تو مجھے کیا کرنا ہوگا؟ میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ حلالہ جائز نہیں ہے۔

شیعہ کیوں مسلمان نہیں ہیں؟


جواب:

یہ درست ہے کہ ہمارے نزدیک بعض شیعہ عقائد قرآن مجید کی صریح تعلیمات کے منافی ہیں۔ لیکن صدیوں سے انھیں امت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق جائز ہی قرار دیا جائے گا۔ اگرچہ دینی مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم مشورہ یہی دیتے ہیں کہ ایسی شادی نہ کی جائے۔ لیکن اگر اس طرح کی شادی ہو چکی ہو تو وہ جائز شادی ہے۔

آپ نے لکھا ہے کہ آپ کو طلاق کورٹ کے ذریعے سے دی گئی۔ کورٹ کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ ایک ماہ میں ایک طلاق واقع کرتی ہے اور اس دوران میں فریقین کے درمیان موافقت کی سعی کرتی ہے۔ لیکن اگر موافقت نہ ہو تو تیسرے مہینے تیسری طلاق واقع کر دیتی ہے۔ ہمارے نزدیک بھی یہ طریقہ کار غلط ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس طریق کار کو اختیار کرنے کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی رہ جاتی ہے۔ واضح شعور کے ساتھ تین طلاقیں اگر دے دی گئیں ہیں۔ اگرچہ وہ غلط طریقے ہی سے دی گئیں ہوں۔ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔

حلالہ ہر لحاظ سے ایک حرام کام ہے۔ اب آپ کے پاس اپنے سابقہ شوہر کے پاس واپس جانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ ہاں آپ کسی دوسرے آدمی سے باقاعدہ شادی کر لیں وہاں سے آپ کو طلاق مل جائے یا وہ شوہر فوت ہو جائے تو آپ کے لیے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کرنے کا موقع پیدا ہو جائے گا۔ لیکن یہ سرتاسر قدرت پر منحصر ہے۔ ہمارے نزدیک پہلے سے طلاق کا فیصلہ کرکے نکاح کرنا درست نہیں ہے۔ حلالے میں یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔

باقی رہا اہل تشیع حضرات کا فتوی تو جب تک ان کے دلائل سامنے نہ ہوں کوئی رائے دینا موزوں نہیں ہے۔ آپ اگر اہل تشیع کے فتوے پر عمل کریں گی تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ میں آپ کو یہ بتادوں کہ قرآن مجید میں قانون یہ بتایا گیا ہے کہ طلاق دینے کے بعد شوہر کو تین حیض تک یہ حق حاصل ہے کہ وہ رجوع کر لے۔ تین حیض گزر جائیں تو عورت آزاد ہو جاتی ہے۔ وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ یعنی اس شوہر کے ساتھ بھی اور کسی اور شخص کے ساتھ بھی۔ اگر شوہر نے تین حیض کے عرصے میں رجوع کر لیا تو رجوع ہو جائے گا اور وہ میاں بیوی کے طور پر رہنے لگیں گے۔ قرآن مجید نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس طرح کی طلاق شوہر اپنی بیوی کو صرف دو بار دے سکتا ہے۔ یعنی وہ طلاق جس میں عدت کے دوران رجوع ہو سکے اور عدت کے بعد نکاح کی گنجایش ہو۔ پھر قرآن مجید نے یہ بتایا ہے کہ اگر شوہر تیسری بار طلاق دے دے تو شوہر کا رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے اور اب اس شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا الا یہ کہ عورت دوسری شادی کے بعد مطلقہ یا بیوہ ہو جائے۔اس قانون کی روشنی میں آپ شیعہ فتوی کا درست یا غلط ہونا سمجھ سکتی ہے۔ میرے علم کی حد تک ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس کی رو سے اس طلاق کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

آپ کی یہ پریشانی کہ آپ کی بچی اپنے باپ سے بہت پیار کرتی ہے اس لیے رجوع کی کوئی صورت نکلنی چاہیے۔

آپ کی بیٹی کا اپنے باپ سے جو رشتہ ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس مسئلے کا یہ حل کہ آپ دوبارہ میاں بیوی بن جائیں قرآن مجید کے بتائے ہوئے قانون کی رو سے ممکن نہیں ہے۔

شیعہ حضرات کو کافر قرار دینا ایک غلط عمل ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم شیعہ کے عقائد کی غلطی واضح کرتے رہیں۔ اللہ جس کو توفیق دے وہ راہ راست اختیار کرے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author