ایک ماہ کے حمل کا اسقاط

سوال:

کیا ایک ماہ کی حاملہ عورت کسی وجہ سے اسقاط (abortion) کرا سکتی ہے ۔میں اور میری بیوی بطور اسٹوڈنٹ UK میں رہتے ہیں اور ہمارے پہلے ہی دو بچے ہیں ، ایک کی عمر تین سال اور دوسرے کی پندرہ ماہ ہے ، لہٰذا میری بیوی مزید بچہ نہیں چاہتی کیونکہ تعلیم کے ساتھ اس کی مکمل دیکھ بھال کرنا بے حدمشکل ہو گا ۔تو کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟


جواب:

اللہ تعالیٰ رحم مادر میں انسانی تخلیق دو بڑ ے مراحل میں کرتے ہیں: ایک مرحلہ انسان کے حیوانی وجود کی ارتقائی تشکیل کا ہے اور دوسرا مرحلہ وہ ہے جب اس حیوانی وجود میں روح پھونک کی جاتی ہے۔ بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ روح پھونکنے کا یہ واقعہ کم و بیش 120دن یا چار ماہ بعد ہوتا ہے ۔روایت کا متن اس طرح ہے :

’’عبداللہ بن مسعودؓنے کہتے ہیں کہ ہم سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اوربلاشبہ آپ سچے تھے ۔جو وعدہ آپ سے کیا گیاوہ بھی سچا تھا، تم میں سے ہر ایک کامادہ(نطفہ)اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے ۔ پھرچالیس دن تک وہ خون کی پھٹکی رہتا ہے ۔ پھر چالیس دن تک گوشت کی بوٹی۔پھراللہ تعالیٰ(اس کے پاس)ایک فرشتے کوبھیجتا ہے اور چارباتیں لکھنے کا اس کوحکم دیتا ہے۔ اس کے اعمال، روزی، عمر، نیک بختی یابدبختی۔ پھراس میں روح پھونکی جاتی ہے ۔‘‘ (بخاری، رقم3036)

اس روایت سے ظاہر ہے کہ ابتدائی 120ایام تک بچے کے حیوانی وجود کا ارتقا ہورہا ہوتا ہے۔ اس دوران میں وہ بچہ محض ایک حیوانی قالب ہوتا ہے۔ بلا شبہ اس عرصے میں بھی یہ جان محترم ہے ، مگر اس کا تقدس انسانی جان جیسا نہیں۔ مگر روح پھونکے جانے کے بعد اس حیوانی وجود کو وہی تقدس حاصل ہوجاتا ہے جو ایک زندہ انسان کو ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد اسقاط حمل نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس سے قبل کسی معقول سماجی، طبی وجہ کی بنا پر اسقاط کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس روشنی میں آپ اپنے معاملے کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author