ایک سے زیادہ خداؤں کا وجود

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک خدا کو ماننا کافی ہے؟ کیوں کہ اگر ایک سے زیادہ خدا ہوں تو کائنات کا نظام خراب ہو جائے گااگر فرض کیا جائے تو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ خدا ہوں تو ان کا نظام انسانوں کی طرح کا نہ ہو، اور وہ آپس میں نہ لڑیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ قرآنِ کریم کی درج ذیل آیات میں بیان کیے گئے استدلال کے حوالے سے ہے:

''اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں، اللہ مالکِ عرش ان سے پاک ہے۔''،(انبیا:22)

''کہہ دو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (اللہ) مالکِ عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لیے) رستہ نکالتے۔''، (بنی اسرائیل:42)

''اللہ نے نہ تو کسی کو (اپنا) بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ یہ لوگ جو کچھ (اللہ کے بارے میں) بیان کرتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے۔''، (مومنون:91)

ان تینوں آیات میں توحید کے حق میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ خدا کے ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں ان کے آپس کے اختلافات اور لڑائی جھگڑے کی بنا پر کی بنا پر نظامِ کائنات درہم برہم ہوجاتا۔ اس استدلال پر آپ کا اعتراض اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ممکن ہے کہ کائنات میں حقیقتاً ایک سے زیادہ خدا موجود ہوں، جن کا نظام انسانوں سے مختلف طریقے پر چل رہا ہو اور وہ انسانوں کی طرح طاقت کے حریص نہ ہوں اور ان ميں اختلافات اورلڑائی جھگڑے کی نوبت نہ آتی ہو۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ مفروضوں کی بنیاد پر کوئی اعتراض اٹھانا درست نہیں ہوتا۔ کائنات کا صرف ایک ہی خدا ہے یہ بات انگنت دلائل و شواہد سے ثابت ہے۔ اس لیے یہ بات فرض کرنا کہ ايک سے زيادہ خدا موجود ہيں محض وہم و گمان ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

پھر اس سے زیادہ دلچسپ مفروضہ یہ ہے کہ یہ بہت سے خدا انسانوں سے مختلف طبیعت کے ہيں اور طاقت کے خواہشمند بھی نہیں ہیں کہ ان ميں آپس میں جھگڑا اور اختلاف شروع ہوجائے۔ ہم اس مفروضے کے جواب ميں کہ قرآن کریم کے بنیادی استدلال کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔

ديکھيے قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات میں یہ نہیں کہا گیا کہ خدا انسانوں جیسے ہوتے ہیں اور اس لیے اُن میں لڑائی جھگڑے کا امکان پایا جاتا ہے۔ بلکہ ان تینوں آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ''اله'' (معبود)ہوتا تو اس صورت میں یہ الہ مکمل طاقت اور کامل اقتدار (جس کی تعبير عرش سے کی گئی ہے) کی خواہش میں ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے جس کے نتیجے میں زمین و آسمان میں فساد برپا ہوجاتا۔ کچھ اور نہیں تو ہر خدا کم از کم اپنے لشکريوں کو لے کر الگ ضرور ہوجاتا۔

اس بات کو سمجھنے کے ليے ضروری ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ عربی زبان میں ''اله'' کے کیا معنی ٰ ہوتے ہیں۔ عربی زبان میں ''اله'' ایک ایسی ہستی کے لیے بولا جاتا ہے جو حیرت انگیز طور پر انسانوں کے تصورات سے بلند اور ان کی اپنی ذات سے مختلف ہو۔ جس کو آدمی اپنی پناہ سمجھ کر شدت سے اس کی طرف لپکتا ہو۔ جس ہستی کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ وہ بااختیار اور صاحبِ قدرت ہے اور اس کی ہر ہر حاجت کو پورا کرسکتی اور اسے ہر مشکل سے نکال سکتی ہے۔

''اله'' کے اس تصور سے واضح ہے کہ اس ہستی کا مکمل صاحبِ اقتدار اور صاحبِ اختيار ہونا، اس کا سب کچھ کرنے کی قدرت رکھنا ، اس کے الہ ہونے کا بنیادی تقاضا ہے۔ مکمل اقتدار کی مالک ایک ایسی ہستی کا ایک سے زیادہ ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ ایک صاحبِ اقتدار کے ساتھ کسی ملک میں اسی جيسا دوسرا کوئی بھی صاحبِ اقتدار موجود ہو، ایسا کسی سلطنت میں ممکن نہیں ہے۔ جس طرح کسی سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہوسکتے اسی طرح اس کائنات میں ایک سے زیادہ ''اله'' نہیں ہوسکتے۔ اس بات کو مزيد ايک مثال سے يوں سمجھيں کہ اگر ايک خدا آپ کو کسی مشکل میں ڈال ديتا ہے اور آپ کی درخواست پر کوئی دوسرا خدا آپ کو اس مسئلے سے نکالنے کا فيصلہ کرلے تو اندازہ کرليجيے کہ کيا ہوگا۔اس لیے کہ ایک خدااگر آپ کی درخواست پر آپ کے مسئلے کو حل کرنا چاہے گا تو دوسراس کی رواہ ميں روڑے اٹکائے گا۔ اس کا لاز می نتیجہ اختلاف، جھگڑے اور فساد کی شکل میں نکلے گا۔ يہی پوری کائنات اور ہر مخلوق کے حوالے سے ہوگا ۔یہی وہ چیز ہے جس کو بنائے استدلال بناکر قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا الہ یا معبود اگر ہوسکتا ہے تو وہ ایک پرودگارِ عالم ہی ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہر مشکل میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی سے امید رکھنی چاہیے، اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور تنہا اسی کی عبادت و بندگی کرنی چاہیے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے، نہ اس کا کوئی شريک، نہ اس کو کوئی مشورہ دينے والا ہے اور نہ اس کے حضور اس کی مرضی کے بغير کسی کو گفتگو کا يارا ہے۔ اس کو چھوڑ کر غير کے پيچھے بھاگنے والے سراب وخواب کی واديوں ميں جی رہے ہيں۔ جيسے ہی عالم امتحان ختم ہوگا اور عالم آخرت شروع ہوگا ہر شخص اپنی آنکھوں سے ديکھ لے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author