ایک وقت میں تین طلاقوں کے متعلق مرفوع صحیح احادیث

سوال:

ایک وقت میں تین طلاقوں کے متعلق مرفوع صحیح احادیث بیان کریں۔


جواب:

تین طلاقوں کا ایک طلاق ہونا ایک فقہی بحث ہے، اس میں استدلال کا مدار کن روایات پر ہے، اس کا خلاصہ ابن رشد نے اپنی کتاب ''بدایۃ المجتہد'' میں بخوبی کیا ہے۔ میں اسے آپ کے لیے نقل کر دیتا ہوں:

''ان کے استدلال کی بنیاد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث پر بھی ہے، جس کی تخریج امام مسلم (رقم ١٤٧٢)اور امام بخاری نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، حضرت ابوبکر کے دور میں اور خلافت عمر کے دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی قرار دی جاتی تھیں۔ حضرت عمر نے تینوں کو نافذ کر دیا۔ ان حضرات کے استدلال کی بنیاد ابن اسحاق کی روایت پر بھی ہے جو انھوں نے عکرمہ سے بواسطہئ ابن عباس بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں اور اس پر انھیں شدید قلق ہوا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے طلاق کس طرح دی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: میں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں۔ آپ نے فرمایا: وہ تو ایک طلاق ہے۔تم اس سے رجوع کر لو۔ (ابوداؤد ،رقم٢٢٠٦۔ابن ماجہ،رقم ٢٠٥١)

جمہور کی راے (تین ایک وقت میں تین) کی حمایت کرنے والے کہتے ہیںکہ صحیحین میں موجود حدیث ابن عباس کی روایت ان کے اصحاب میں سے طاؤس نے کی ہے، جبکہ ان کے بیش تراصحاب نے جن میں سعید بن جبیر، مجاہد ، عطااور عمرو بن دینار ہیںاور ان کے علاوہ ایک جماعت نے تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کاقول نقل کیا ہے اور ابن اسحاق کی حدیث وہم ہے۔ثقہ راویوں کے الفاظ تو یہ ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو حتمی طلاق دی تھی۔ اس میں تین کے الفاظ نہیں ہیں۔'' (٢/ ٤٦)

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author