ایک وتر کا جواز

سوال:

بعض لوگ عشا کی نماز میں ایک وتر بھی پڑھ لیتے ہیں۔ کیا ایک وتر بھی پڑھا جا سکتا ہے؟


جواب:

ایک وتر پڑھنے کا نقطۂ نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ماخوذ نہیں ہے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے فہم پر مبنی ہے۔ بعض روایات میں 'اوتر بواحدة' (ایک سے طاق کر لو)کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ ایک رکعت پڑھ لو،جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے تو ایک وتر پڑھنا حدیث سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس جملے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی نماز کو طاق پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کسی نماز کو طاق کرنے کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ دو کو تین کیا جائے۔ امام مالک نے یہی راے دی ہے کہ یہ نماز کم از کم تین رکعت ہے۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ وتر عشا کی نماز کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ اپنی اصل کے لحاظ سے تہجد کی نماز ہے جس کی کم از کم مقدار یعنی تین رکعات کو عشا کے ساتھ اس لیے ملا دیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کے ساتھ ہی تہجد پڑھنے کی رعایت بھی دی ہوئی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author