اللہ کے صفاتی نام

سوال:

اللہ کے صفاتی ناموں کے بارے میں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض نام موزوں نہیں ہیں۔ اس ضمن میں آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:

اللہ تعالیٰ نے اپنے جو نام خود بیان کیے ہیں، انھیں ناموزوں قرار دینے کی جسارت کوئی کیسے کر سکتا ہے۔ البتہ کچھ صفاتی نام لوگوں نے ازخود بنالیے ہیں جو ہمارے ہاں عام طور پر ''ننانوے نام '' کے عنوان سے مشہور ہیں۔ یہ کسی مستند جگہ پر بیان نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ نام ایسے بھی ہیں جو افعال سے بنا لیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کا یہ فعل بیان ہوا ہے کہ وہ اس آدمی کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو اس کی ہدایت کی قدر نہیں کرتا۔ اس بنا پر یہ بات کہنا تو ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق گمراہ بھی کرتا ہے، لیکن اس سے اگر اسم صفت 'المضل' (گمراہ کرنے والا) بنا لیا جائے اور اسے اللہ کا صفاتی نام قرار دیا جائے تو یہ بات ناموزوں ہوگی۔ (اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author