اللہ کا عذاب

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ غامدی صاحب کی جہاد کے پہلو سے جو ایک وضاحت ہے میں اسے جہاں تک سمجھ پایا ہوں اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتمام حجت کر دینے کے بعد صحابہ کرامؓ کی تلواروں کے ذریعے کفار پر وہ اللہ کا عذاب تھا جو کہ نافذ کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید میں یہ نہیں کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک لوگوں میں موجود ہیں تب تک اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

قرآنِ کریم کی جس آیت(انفال 33) کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اُس میں بلاشبہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ مکہ کے درمیان تھے، اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دینے والا نہ تھا۔ اس بات کا ایک خاص محل ہے جو سیاق و سباق سے واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے دوران میں جب کفار کو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کے جواب میں عذابِ الٰہی کی وعید کی جاتی تو وہ رسول اللہ کا مذاق اڑاتے ہوئے عذابِ الٰہی فوراًلانے کا مطالبہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب بھیجے جانے کا کفار کا یہی مطالبہ سورہئ انفال کی آیت 32 میں نقل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ اگر یہ قرآن تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب بھیج دے۔ چنانچہ آیت 33 میں اس بات کا جواب دیا جارہا ہے کہ جنگِ بدر سے قبل اگر اللہ نے کفار کی گرفت نہیں کی تھی تو اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ رسول اللہ مکہ میں مقیم تھے اور قانونِ رسالت کا یہ قاعدہ ہے کہ جب تک رسول اپنی قوم میں موجود ہوتا ہے قوم پر عذاب نہیں آتا، بلکہ اتمامِ حجت کے بعد رسول کو ہجرت کا حکم ہوجاتا ہے اور پھر اس کے بعد عذاب آیا کرتا ہے۔ چنانچہ جب کفارِ مکہ پر اتمامِ حجت ہوگیا، رسول اللہ کو مدینے ہجرت کا حکم ہوگےا تو پھر جنگ بدر میں کفار کی قیادت پر صحابہ کرام کی تلواروں کے ذریعے عذاب آیا اور وہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے گئے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author