اللہ سے دوستی کی شرط

سوال:

میرا نام ارسلان ہے اور میری عمر 23 سال ہے ۔مجھے ایک عجیب سے مسئلے اور سوال کا سامنا ہے ، جسے آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔امید ہے کہ آپ کوئی تسلی بخش جواب اور رہنمائی دیں گے ۔

میں اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی تمام ہدایات پر پختہ یقین رکھتا ہوں ، لیکن اس کے باوجود میں ہر وقت گنا ہوں میں گھرا رہتا ہوں اور میں نماز بھی نہیں پڑھتا۔ میرے کئی دوست ہیں لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ دو ،تیندن پہلے مجھے اچانک خیال ہوا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کو اپنا دوست بنانا چاہیے ، لہٰذا اب میں تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے باتیں کرتا ہوں اور اپنا تمام دکھ درد اس کے سامنے پیش کرتا ہوں ، لیکن اس کے باوجود میں نے نہ ابھی تک نماز پڑ ھنی شروع کی ہے اور نہ میرا طرزِ زندگی بدلا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میرے جیسے گناہگارکی باتیں سنتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ ہر شخص سے پیار کرتا ہے یا صرف ان سے کرتا ہے جو نیک ہوتے ہیں؟ میرے ان سوالوں کا جواب ضرور دیجیے گا، چاہے اس کے لیے مجھے دس سال تک انتظار کرنا پڑ ے۔


جواب:

آپ کو اپنے سوال کے جواب کے لیے دس سال انتظارکرنے کی ضرورت نہیں ، جواب حاضرہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پربے حدمہربان ہے۔ جولوگ ان پرایمان لاتے ہیں وہ انہیں دوست رکھتا ہے۔ آپ کا اللہ تعالیٰ پرپختہ ایمان ہے اور آپ کا اس سے دوستی کا جذبہ بھی بے حد قابل تحسین ہے ۔تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام یعنی قرآن مجیدمیں یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے محبت اوردوستی کی شرائط کیا ہیں۔ ارشادباری تعالیٰ ہے :

’’سن لوکہ اللہ کے دوستوں کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جوایما ن لائے اورڈرتے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے ، دنیاکی زندگی میں بھی اورآخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یہی بڑ ی کامیابی ہے۔ ‘‘ (یونس10: 62۔64)

’’اے بنی کہہ دو:اگرتم اللہ کودوست رکھتے ہوتومیری پیروی کرو، اللہ تم کودوست رکھے گا اورتمھارے گنا ہوں کوبخشے گا اوراللہ بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (آل عمران3: 31)

ان آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دوستی اورایمان کوشرف قبولیت بخشتا ہے جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے اوراس کاتقویٰ اختیارکرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تعلق کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیجیے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہرشخص کی بات سنتا اورہرشخص سے پیارکرتا ہے ، لیکن بندوں کابھی فرض ہے کہ اس کی بات سنیں اورجس طرح اس نے بتایا ہے ، اسی طرح اس سے محبت کریں۔ نماز خدا کی محبت کے اظہارکاسب سے بڑ اذریعہ ہے۔ جوشخص یہ اظہارنہیں کرتا اور محبت کادعویٰ کرتا ہے وہ اپنے آپ کودھوکہ دیتا ہے۔ اس لیے آپ کچھ اور نہیں تو کم ازکم نمازاوردیگربنیادی عبادات کاتوضرور اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنافضل وکرم فرمائے۔ آمین

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author