‘علم آدم الاسماء’ کی تشریح

سوال:

سورہ بقرہ میں ہے کہ

 'علم آدم الأسماء' (البقرہ ٢:٣١)

 اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو کچھ نام سکھائے، یہ کیا نام تھے۔ کیا یہ کوئی علم تھا؟


جواب:

یہ آیت جس پس منظر میں آئی وہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ میں زمین پر ایک ایسی مخلوق بنانے والا ہوں جس کو میں اختیار بھی دوں گا اور اقتدار بھی۔ اس پر فرشتوں نے سوال کیا کہ جب آپ اختیار اور اقتدار دیں گے تو بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آدم کی جو آگے اولاد پیدا ہونے والی تھی، اس کو تمثیل کے اسلوب میں لا کر کھڑا کر دیا۔ بالکل ایسے ہی جس طرح سے ہم کسی چیز کو ممثل کر کے سامنے لے آتے ہیں۔ اس موقع پرحضرت آدم کو بڑے بڑے مصلحین، مجدددین، انبیا اور بڑی شخصیتوں کا تعارف کرایا گیا، جو پیدا ہونی تھیں، یہ ان سب کے نام تھے۔ اس کو قرآن نے آگے واضح بھی کر دیا کہ وہ شخصیات پیش کر کے، فرشتوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا کہ تمھارا خدشہ اپنی جگہ، لیکن اس سب کچھ کے باوجود ایسے نیک، صالح اور خیر کے علم بردار لوگ بھی پیدا ہوں گے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author