عین موت کے وقت ایمان لانے کی حیثیت

سوال:

میں یہ جاننا چاہتا ہون کہ اتمام حجت کے بعد جب عذاب اتر آئے تب عین جنگ کے دوران اگر کوئی منکر ایمان لے آئے اور پھر اسے قتل کر دیا جائے تو کیا وہ فرعونی کی طرح کافر ہی قرار پائے گا یا اس کا ایمان قابل قبول ہو گا؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ نے ایک جنگ میں ایک ایسے آدمی کا انجام پوچھا ہے جس نے عین قتل کے موقع پر اظہار ایمان کیا تھا۔

یہ روایت اصلا اس مضمون کی حامل ہے کہ دنیا میں ظاہر پر معاملہ کیا جائے گا۔ ہماری دل تک رسائی نہیں ہے اس لیے ہم مجبور ہیں کہ قانونی طور پر اس شخص کو مسلمان قرار دیں جو ایمان قبول کرنے کا اعلان کیے ہوئے ہے۔ اور اسے وہ تمام قانونی حقوق دیں جو ایک مسلمان کو دیے گئے ہیں۔ باقی رہا آخرت کا معاملہ تو وہ حقیقت کی بنیاد پر ہوگا۔ ممکن ہے بہت سے اس دنیا کے مسلمان آخرت میں مسلمان کی حیثیت سے قبول نہ کیے جائیں۔ موت کو سامنے دیکھ کر کی گئی توبہ اور ایمان کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ فرعون پر یہی اصول نافذ ہوا ہے۔ مذکورہ واقعے میں مقتول کے بارے میں اس طرح کی کوئی تصریح کتب حدیث میں نہیں ہے۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ وہ پہلے سے مومن تھا لیکن اس کا ایمان ظاہر نہیں تھا۔ اگر معاملہ یہ ہے تو اس کی بخشش ہو گی اور اگر نہیں تو معاملہ اس کے برعکس ہوگا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author