عروج و زوال کا قانون

سوال:

موجودہ دور میں جب یہ بات کی جاتی ہے کہ قوم کی تعمیر ہونی چاہیے، ہمیں اپنے اندر صبر پیدا کرنا چاہیے۔ اس وقت ہم اپنی قوتیں، بہترین نوجوان اور وسائل جو غیر ضروری معاملات کی جد وجہد میں ضائع کر رہے ہیں ، ان کو اپنی تعمیر پر صرف کریں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ مغرب تو اصل میں یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی کریں اور یہ کشاکش ختم ہو جائے تاکہ میدان ان کے لیے چھوڑ دیا جائے۔اس بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟


جواب:

اللہ تعالیٰ نے میدان کسی کے ہاتھ میں بھی ہمیشہ کے لیے نہیں دے رکھا ہوا۔ ہم دنیا پر حکومت کر رہے تھے تو میدان ہمارے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کے تحت قوموں کا عروج و زوال ہوتا رہتا ہے۔ جب مغرب نے اپنا حق ثابت کردیا تو ان کو دنیا کی حکومت حاصل ہوئی۔ ہم بھی استحقاق پیدا کر لیں گے تو خدا کا ہاتھ فوراً کارفرما ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن مجید میں بہت اچھے طریقے سے واضح کر دی ہے کہ 

'اِنَّ اﷲَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ'(الرعد ١٣: ١١)
(اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے)۔

اللہ قوموں کا انتخاب تو آزمایش اور امتحان کے اصول پر کرتا ہے اور ہر قوم کو باری باری موقع دیتا ہے کہ وہ میدان میں آئے اور جو کچھ کر سکتی ہے کرے، لیکن اس کے ہاتھ سے اقتدار اس وقت چھینتا ہے،جب وہ خود اپنے ساتھ زیادتی کر بیٹھتی ہے۔ قرآن مجید نے تو یہ اعلان کیا ہے کہ اس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے ایک ایک قوم کو اس اسٹیج پر نمودار ہونا ہے اور اس کے بعد اس کو ہلاکت کے سپرد ہو جانا ہے۔ یہ معاملہ تو چل رہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو کھلا ہاتھ دے رکھا ہواہے اور شیطان کے ہاتھ میں دنیا کی باگ آ گئی ہے۔ ایک قانون ہے جس کے مطابق معاملات ہو رہے ہیں۔ اگر ہم اس قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو ہمارے حق میں بھی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے اصلی کام جو کرنے کا تھا وہ اس بات کا احساس کرنے کا تھا کہ ہم علم و اخلاق اور سیرت وکردار میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہدف بنا کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ جو سیاسی نوعیت کے بعض جھگڑوں کو ہم بڑی اہمیت دے لیتے ہیں اور جن کو اپنے لیے زندگی اور موت کامسئلہ بنا لیتے ہیں، ان کے معاملے میں حقیقت پسندانہ رویہ ناگزیر تھا۔

یہ تلخ حقیقت یاد رکھنی چاہےے کہ جب آپ دنیا میں پیچھے رہ جاتے ہیں تو پھر آپ کو انصاف نہیں ملا کرتا۔ پھر آپ ممکنات کے اندر سے راستہ نکالتے ہیں۔ اس طرح کے موقعوں پر اچھی لیڈر شپ وہ ہوتی ہے، جو اپنے آپ کو بچا لے جائے۔ انبیا علیہم السلام نے یہ موقع حاصل کیا ہے۔ سیدنا مسیح نے یہی کیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی کیا۔ خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر، مزاحمت سے ہاتھ کھینچ کر ، امن کا معاہدہ کر کے اپنے لیے کسی حد تک موقع حاصل کیا تاکہ اپنی تعمیر کی جا سکے، اپنی دعوت کو پھیلایا جا سکے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author