اسیران جنگ کو غلام بنانے کا جواز

سوال:

میں ایک سوال عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ایک دن غامدی صاحب کی زبان سے سن کر حیرانگی ہوئی کہ "بعد میں قرآن نے مسلمانوں کو منع کر دیا تھا کہ وہ کسی کو جنگی قیدی بنائیں" اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تمام مسلم حکومتوں نے سرینڈر کرنے والوں کو قیدی بنانے والا نظام جاری رکھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اچھے مسلمان نہیں تھے تو یہ کام صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی کیا تھا۔ انہوں نے جہاں سے بھی فتح حاصل کی وہاں سے غلام اور لونڈیاں بنائی گئیں۔ اگرچہ انہیں بعد میں آزاد بھی کر دیا گیا۔ لیکن انہوں نے غلام بنائے تو سہی۔ برائے مہربانی آپ اپنے نقطہ نظر سے وضاحت فرمائیں۔


جواب:

جناب جاوید احمد غامدی کی یہ رائے سورہ محمد کی آیت ٤ پر مبنی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے نتیجے میں قید ہونے والے کفار کے حوالے سے یہ ہدایت کی ہے کہ یا تو ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چھوڑ دیا جائے اور یا ان سے فدیہ لے کر رہا کر دیا جائے۔ ارشاد ہوا ہے:

فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ

''پھر جب کفار کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ ہو تو خوب ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح ان کی خون ریز ی کر چکو تو انھیں مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا۔ (ان کے ساتھ لڑائی جاری رکھو) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔''

آیت بظاہر جنگی قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو باتوں میں محصور کر دیتی ہے، یعنی یہ کہ یا تو انھیں احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ چھوڑ دیا جائے اور یا ان سے فدیہ لے کر انھیں رہا کر دیا جائے۔ حصر کا یہ اسلوب بظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسیران جنگ کو فدیہ لے کر یا احسان کے طو رپر آزاد کرنے کے علاوہ کوئی ان کے حوالے سے کوئی تیسرا طریقہ اختیار کرنا جائز نہ ہو۔ تاہم اس ہدایت کے سیاق وسباق کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ 'فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء ' کا حصر کا اسلوب اسیران جنگ کو غلام بنانے کی ممانعت کے لیے نہیں، بلکہ ایک مختلف تناظرمیں استعمال کیا گیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے زیر بحث ہدایت کی ترجمانی یوں کی ہے: ''یعنی اس کے بعد اگر یہ تمھارے ہاتھ سے چھوٹیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں۔ یا تو تمھارے احسان کا قلادہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر۔'' (تدبر قرآن ٧/٣٩٧)

میری طالب علمانہ رائے میں مولانا اصلاحی کی یہ رائے بے حد صائب ہے اور کلام کے موقع ومحل اور اس کے رخ کی نہایت درست ترجمانی کرتی ہے۔آیت کے موقع ومحل اور کلام کے دروبست سے واضح ہے کہ یہاں جنگی قیدیوں سے متعلق کسی قانون کا بیان پیش نظر نہیں، بلکہ اہل ایمان پر یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا انکار کرنے پر اہل کفر کو رسوا کرنے اور انھیں سزا دینے کے لیے اہل ایمان کو بطور آلہ وجارحہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا منشا یہ ہے کہ کفار کو اس جنگ میں خدا کا دشمن سمجھ کر میدان جنگ میں بھی ان کی خوب خون ریزی کی جائے اور پھر جب انھیں شکست ہو جائے تو قید کرنے یا قید سے آزا دکرنے کا معاملہ بھی پوری طرح ان کو نیچا دکھا کر اور ان کے کبر وغرور کو توڑ کر ہی کیا جائے۔ دشمن کے ساتھ جنگ میں ظاہر ہے کہ اسے زک پہنچانے کے یہی تین طریقے ہو سکتے ہیں اور قرآن نے یہاں یہ واضح کیا ہے کہ ان تینوں طریقوں میں دشمن کی کمر توڑنے، اسے زک پہنچانے اور اس کا حوصلہ توڑنے کے جذبے کا اظہار پوری طرح نمایاں ہونا چاہیے۔

اس تناظر میں دیکھیے تو 'اما منا بعد واما فداء' میں حصر قیدیوں کو قتل کرنے یا غلام بنانے کے تقابل میں نہیں، بلکہ باعزت آزاد کرنے کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مقصود اس بات کی نفی کرنا نہیں کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے یا انھیں غلام بنا لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انھیں باعزت آزادی نصیب نہیں ہونی چاہیے۔ کلام کا یہ رخ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہاں مقصود اگر جنگی قیدیوں کے بارے میں کسی قانون کا بیان ہوتا تو اس کے لیے سادہ طریقے پر یہ کہنا کافی تھا کہ ایسے قیدیوں کو آزاد کر دینا ہی واحد قانونی آپشن ہے، چاہے بلا معاوضہ آزاد کیا جائے یا فدیہ لے کر، لیکن قرآن نے یہاں قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد کرنے کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہونے والا کوئی سادہ (neutral) لفظ مثلاً 'تحریر' یا 'تسریح' نہیں، بلکہ 'منا' کا لفظ استعمال کیا ہے۔

کلام کا یہ محل اور رخ پیش نظر رہے تو یہ سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ یہاں قیدیوں کے بارے میں قتل اور غلامی کے آپشنز کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ متکلم کا مقصود دراصل یہ ہے کہ ان اہل کفر کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے کسی پہلو سے نرمی یا مسامحت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، اس لیے اس نے انھی پہلووں کا ذکر کیا ہے جہاں اس کا خدشہ یا امکان ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میدان جنگ میں انھیں تہہ تیغ کرنے میں رو رعایت کا امکان ہو سکتا تھا تو فرمایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خوب ان کی گردنیں ماری جائیں۔ قتل سے بچ جانے والوں کے بارے میں یہ امکان تھا کہ انھیں فرار ہونے دیا جائے تو فرمایا کہ نہیں، بلکہ انھیں خوب مضبوطی سے باندھ لیا جائے۔ پھر گرفتار کیے جانے والوں کے بارے میں یہ امکان تھا کہ انھیں باعزت طریقے سے رہا کر دیا جائے تو فرمایا کہ نہیں، ان کی رہائی بھی یا تو مسلمانوں کا ممنون احسان ہو کر عمل میں آنی چاہیے یا فدیہ ادا کر کے۔ چونکہ ان قیدیوں کے قتل کیے جانے یا غلام بنائے جانے کی صورت میں نرمی کا پہلو قدرتی طور پر مفقود ہے اور ان کا اختیار کیا جانا بدرجہ اولیٰ متکلم کے مقصود کو پورا کرتا ہے، اس لیے یہاں ان آپشنز کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں اگر ان کا ذکر کیا جاتا تو ظاہری طور پر اس کی ایک ہی صورت تھی، یعنی یہ کہ یہ کہا جاتا کہ ان قیدیوں کو قتل کرنے یا غلام بنانے ہی کو ترجیح دی جائے اور آزاد کرنے کا آپشن کم سے کم استعمال کیا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح کی کوئی تحدید عائد کرنا بھی یہاں اللہ تعالیٰ کا مقصود نہیں۔ پس ازروے بلاغت قتل اور غلامی کا ذکر کرنے کی یہاں نہ صرف یہ کہ ضرورت نہیں تھی بلکہ ایسا کرنا غیر ضروری اور غیر مناسب ہوتا۔

مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف غزوات میں جنگی قیدیوں کے بارے میں جو طرز عمل اختیار فرمایا، اس میں قیدیوں کو بلامعاوضہ یا فدیہ لے کر رہا کرنے کے علاوہ بعض قیدیوں کو قتل کرنا اور بعض کو غلام بنا لینا بھی شامل ہے۔ چنانچہ آپ نے بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن الحارث کو قتل کر ا دیا۔ بنو قریظہ نے بدعہدی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ پھر ان کے کہنے پر سعد بن معاذ کو حکم مقرر کیا گیا جنھوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے جبکہ ان کے عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، چنانچہ ان کے فیصلے کے مطابق ان کے مردوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا گیا۔ (بخاری، ٣٧٢٤، ٣٨١٣) ان میں سے بعض قیدیوں کو مشرکین کے ہاتھوں بیچا بھی گیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ١٨١٠٨)

خیبر کی فتح کے موقع پر آپ نے یہود کے جنگی مردوں کو قتل کرا دیا جبکہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ ان میں حیی بن اخطب کی صاحبزادی صفیہ بنت حیی بھی تھیں جنھیں بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر کے ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔ (بخاری، رقم ٨٩٥، ٢٦٧٩)

غزوہ بنو المصطلق میں بھی آپ نے ان کے جنگی مردوں کو قتل کیا جبکہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ ان میں قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ جویریہ بھی شامل تھیں جو ابتداء ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں، لیکن پھر ان کی رضامندی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ثابت بن قیس سے خرید لیا اور انھیں آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیا۔ (بخاری، رقم ٢٣٥٥،٢٣٥٦۔ ابوداؤد، رقم ٢٤٢٩)

غزوہ حنین میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا اور انھیں اجازت دی گئی کہ وہ اپنی ملکیت میں آنے والی خواتین کے استبراء رحم کے بعد ان سے استمتاع کر سکتے ہیں۔ تاہم بعد میں اس قبیلے کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور درخواست کی کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس کر دیا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر ان سب کو آزاد کر دیا گیا۔ (بخاری، رقم ٢١٤٢، ٢٩١١۔ مسلم، رقم ٢٦٤٣)

بنو فزارہ کے خلاف غزوے میں ان کی جو خواتین قید کی گئیں، انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیا جبکہ ان میں سے بعض خواتین کو مکہ مکرمہ بھیج کر ان کے بدلے میں مسلمان قیدیوں کو رہا کرا لیا گیا۔ (مسلم، رقم ٣٢٩٩)

ایک موقع پر کچھ قیدی آپ کے پاس آئے تو ضباعہ بنت زبیر اور سیدہ فاطمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور درخواست کی کہ ان قیدیوں میں سے ایک ایک خادم انھیں دے دیا جائے، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'سبقکن یتامی بدر' یعنی بدر میں ییتم ہونے والوں کا حق تم سے مقدم ہے۔ (ابوداؤد، رقم ٤٤٠٤)

ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب جنگی قیدیوں کو لایا جاتا تو آپ ان میں سے ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو اکٹھے کسی کی ملکیت میں دے دیتے تاکہ ان کے مابین تفریق نہ ہونے پائے۔ (ابن ماجہ، رقم ٢٢٣٩)

سیدنا علی کو ایک سریے میں یمن کی طرف بھیجا گیا تو بنو زید کے ساتھ لڑائی میں ان کے کچھ قیدی ان کے ہاتھ آئے۔ انھوں نے ان میں سے ایک عورت کو اپنے لیے چن لیا اور بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فیصلے کی تصویب فرما دی۔ (مسند احمد، رقم ٢١٩٣٤)

عہد صحابہ میں اس ضمن کے بعض واقعات حسب ذیل ہیں:

عین التمر میں دشمن کے بہت سے افراد کو غلام بنا لیا گیا جن میں عبد الاعلیٰ شاعر کے والد ابو عمرہ، محمد بن سیرین کے والد سیرین اور سیدنا عثمان کے معروف غلام حمران بن ابان بھی شامل تھے۔ (ازدی، فتوح الشام، ص ٦٠)

سرزمین شام میں اردن کا علاقہ فتح ہوا تو اسلامی لشکر کے امرا میں اس حوالے سے اختلاف راے پیدا ہو گیا کہ مفتوحین کو غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے یا اہل ذمہ بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے۔ معاملہ سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے عملی مصلحت کی روشنی میں دوسری راے کی تائید کی لیکن اصولی طور پر غلام بنانے کی ممانعت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (ازدی، فتوح الشام، ص ١٢٥)

غامدی صاحب کی رائے میں اس نوعیت کے واقعات میں قیدیوں کو مختلف افراد کے مابین تقسیم کرنا مستقل ملکیت کے اصول پر نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام کے طور پر تھا تاکہ یہ افراد خود ان قیدیوں کے ساتھ فدیہ وغیرہ کے معاملات طے کر کے بالآخر انھیں آزاد کر دیں، لیکن یہ توجیہ اشکال کو حل نہیں کرتی، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہرحال جنگی قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنایا اور اسی حیثیت سے لوگوں کو ان پر مالکانہ حقوق دیے ہیں، جبکہ اگر قرآن مجید نے سورہ محمد کی زیر بحث آیت میں قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت کی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں مملوک نہ بنایا جائے، چاہے یہ ملکیت وقتی اور عارضی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔ پھر یہ کہ روایات میں اس کا بھی کوئی قرینہ موجود نہیں کہ یہ قیدی اس اصول پر تقسیم کیے گئے تھے کہ ان کے مالک ان کے ساتھ فدیے کا معاملہ طے کر کے انھیں آزاد کرنے کے پابند ہوں گے۔ بظاہر جس طریقے سے مختلف مواقع پر قیدیوں کو لوگوں کی ملکیت میںدیا گیا، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انھیں ان پر ملکیت کا حق مستقل طور پرحاصل ہو گیا تھا۔ ایسے کسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ بعد میں انھیں آزاد کرنا مالکوں پر لازم ہے۔ مزید برآں ایک ایسے معاملے کو جو نظم اجتماعی سے متعلق ہے، افراد کے سپرد کر دینے کی وجہ اور حکمت واضح نہیں ہوتی۔ اگر قرآن کا منشا یہی ہے کہ یہ قیدی لازماً آزاد ہو جائیں تو انھیں افراد میں تقسیم کر کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو ان کی شخصی صواب دید پر منحصر کر دینا بظاہر کوئی قابل فہم حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔

ان وجوہ سے میری طالب علمانہ رائے میں اہل علم کے عام نقطہ نظر کے مطابق یہی بات درست ہے کہ قرآن نے اسیران جنگ کو غلام بنانے پر قانونی اور شرعی دائرے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ هذا ما عندی والله اعلم

answered by: Ammar Nasir

About the Author

Ammar Khan Nasir


Mr Ammar Khan Nasir was born in December 1975 to a renowned religious and scholarly family in the town of Gakhar Gujranwala, Pakistan. His grandfather Mawlana Muhammad Sarfaraz Khan Safdar is considered the academic voice of the Deobandi School in the country. His father, Mawlana Zahid al-Rashidi, is a famous religious scholar known for his sound and balanced religious approach.

Mr Ammar Khan Nasir obtained his elementary religious education in Madrasa Anwar al-Uloom Gujranwala. He obtained Shahada Alamiyyah from Madrasa Nusrat al-Uloom Gujranwala in 1994. Then he started pursuing conventional studies and obtained Masters Degree in English Literature from the University of the Punjab in 2001. He has worked as Assistant Editor of the Monthly Al-Shari’ah published from Gujranwala from 1989 to 2000. Since then he has been serving as the Editor of the journal. He taught the Dars-e Nizami course at Nusrat al-Uloom from 1996 to 2006. He joined GIFT University Gujranwala in 2006 where he teaches Arabic and Islamic Studies to graduate and MPhil classes.

Mr Ammar Khan Nasir has many academic works to his credit. His first work, “Imam Abū Hanifa and Amal bil Hadith” (Imam Abū Hanifa and Adherence of Hadith) appeared in print in 1996. In 2007 he academically reviewed the recommendations of the Council of Islamic Ideology, Government of Pakistan, regarding Islamic Punishments. His research on the issue was later compiled and published by Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, Lahore entitled “Hudood-o Ta’zeeraat, Chand Aham Mabahis” (Discussions on Islamic Penal Code). His other research works include Masjid Aqsa ki Tarikh awr Haq-e Tawalliyat (History of the Sacred Mosque in Jerusalem and the Question of its Guardianship) and Jihad. His research articles on variety of religious issues continue appearing in the Monthly Ishraq Lahore, Monthly Al-Shari’ah, Gujranwala and Monthly Nusrat al-Uloom Gujranwala.

Mr Ammar Khan Nasir was introduced to Javed Ahmad Ghamidi in 1990. Since then he has been under his informal tutelage. In 2003 he joined al-Mawrid. He plans to work on and study and do research on the Farahi School from different academic angles. His works and articles can at accessed on http://www.al-mawrid.org, the official site of Al-Mawrid and at his personal site http://www.ammarnasir.org.